*محکمہ داخلہ پنجاب میں کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا 60 واں اجلاس،صوبہ بھر میں امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ

2

لاہور 25 ستمبر:( اے پی پی ) محکمہ داخلہ پنجاب میں کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا 60 واں اجلاس منعقد ہوا۔

سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اجلاس کو صوبہ بھر میں امن و امان کی صورتحال اور سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ کابینہ کمیٹی نے 4 جے آئی ٹیز اور 21 کیسز کے جیل ٹرائلز کی منظوری دی۔ صوبائی وزیر و چیئرمین کابینہ کمیٹی خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبہ بھر میں امن و امان کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔

 انہوں نے قیام امن کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے عوام کے جان و مال کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سیاسی و مذہبی انتہا پسندی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

 صوبائی وزیر و کو چیئرمین کابینہ کمیٹی بلال یاسین نے کہا کہ امن و امان میں رخنہ ڈالنے والوں سے کسی صورت رعایت نہیں برتی جائے گی۔ عوام کے جان و مال اور املاک کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔

 صوبائی وزیر سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ عوام کے جان و مال کو خطرے میں ڈالنے والی کسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ قیام امن کیلئے محکمہ داخلہ پنجاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔

 معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب رانا بلال احمد نے کہا کہ صوبہ بھر میں قیام امن کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے تسلسل کے ساتھ سکیورٹی انتظامات یقینی بنا رہے ہیں۔

 سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے بتایا کہ پنجاب بھر میں 5 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ ہے۔ عوامی مقامات پر 5 یا زائد افراد کے اجتماع، جلوس اور لوگوں کو غیر قانونی اجتماعات میں شرکت کیلئے اکسانے پر پابندی ہے جبکہ عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی مکمل پابندی عائد ہے۔

 کابینہ کمیٹی اجلاس میں صوبائی وزیر و چیئرمین کابینہ کمیٹی خواجہ سلمان رفیق، صوبائی وزیر و کو چیئرمین بلال یاسین، صوبائی وزیر سید عاشق حسین کرمانی اور معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب رانا بلال احمد ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل اور متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔