اسلام آباد، 17 ستمبر(اے پی پی): وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت میکرو اکنامک استحکام کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے حاصل ہونے والی معاشی کامیابیوں کو مزید مستحکم کرے گی، جبکہ پائیدار اور ذمہ دارانہ، برآمدات پر مبنی اقتصادی نمو کے فروغ پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ روڈ شو کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی معاشی حکمت عملی کے چار بنیادی اصول ہیں جن میں میکرو اکنامک استحکام، پائیدار اور ذمہ دارانہ اقتصادی نمو، ساختی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی شامل ہے۔ حکومت کا مقصد ایسا ایکوسسٹم فراہم کرنا ہے جس میں نجی شعبہ ملک کی معاشی ترقی میں قائدانہ کردار ادا کرے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ دو سے تین برس کے دوران مالی اور بیرونی شعبوں میں نمایاں بہتری آئی ہے اور مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے لحاظ سے گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آیا ہے، جبکہ مسلسل تین برس سے پرائمری سرپلس حاصل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور درآمدات کے لیے دستیاب کوریج میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ان کامیابیوں پر اکتفا کرنے کے بجائے اصلاحات کے عمل کو مسلسل آگے بڑھانا ہوگا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس کے شعبے میں ایف بی آر کی افرادی قوت، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی پر مبنی تبدیلیوں کے ذریعے ادارے پر عوام کا اعتماد اور ساکھ بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ٹیکس وصولیوں میں گزشتہ دو برس کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس کا بنیادی محور نفاذ اور لیکیجز کی روک تھام ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی، سرکاری کاروباری اداروں، نجکاری اور پبلک فنانس کے شعبوں میں بھی ساختی اصلاحات جاری ہیں۔ متعدد سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے گئے ہیں جبکہ قومی ایئرلائن کے بعد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، ہوائی اڈوں اور دیگر اداروں کی نجکاری کے عمل کو بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حالیہ نجکاری کے عمل میں پاکستانی کاروباری گروپس کی شرکت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ملکی نجی شعبہ سرمایہ کاری کے مواقع میں بھرپور دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار اقتصادی نمو کے لیے ضروری سازگار ماحول کی فراہمی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پبلک فنانس کے شعبے میں پنشن اصلاحات سمیت مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ کئی سال کے وقفے کے بعد پاکستان نے حال ہی میں یورو بانڈ مارکیٹ تک دوبارہ رسائی حاصل کی ہے، جو عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی رسائی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔











