نیویارک ،23ستمبر (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے حق ترقی سے متعلق بین الاقوامی عہدنامے کو جلد از جلد اپنانے کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی کا مقصد محض دولت پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے سماجی ترقی اور انسانی وقار کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا چاہیے،پاکستان میں وضع کردہ ترقی کا ڈھانچہ معاشی تبدیلیوں کے منصوبوں پر مبنی ہے جس میں برآمدات میں اضافہ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا فروغ، موثر موسمیاتی اقدامات اورتوانائی کے ڈھانچے میں بہتری لانا شامل ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کواقوام متحدہ ہیڈ کوارٹرز میں ڈیکلیریشن آن رائٹ ٹو ڈویلپمنٹ کی 40 ویں سالگرہ پراعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ حق ترقی کے تحت ہر شخص کا یہ حق ہے کہ وہ ایک بہتر مستقبل کی تلاش کرے اور ہر قوم کا یہ حق ہے کہ وہ مستقبل کی تعمیر کے لیے ضروری وسائل رکھتی ہو۔انہوں نے کہا کہ چالیس سال قبل حق ترقی کے اعلامیہ نے انسانوں کو ترقی کے مرکز میں رکھتے ہوئے اس بات کی توثیق کی کہ ترقی عوام کا ناقابل تنسیخ حق ہے، اس کا پیغام انتہائی اہم تھا۔
محمد شہباز شریف نے کہا کہ ترقی کا مقصد محض دولت پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے سماجی ترقی اور انسانی وقار کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ترقی پذیر دنیا میں یہ وعدہ ایک تلخ حقیقت کا سامنا کر رہا ہے،قرضوں کی ادائیگی مالی گنجائش کو محدود کر رہی ہے اور ان قلیل وسائل کو استعمال کر رہی ہے جو دنیا بھر میں انسانی ترقی کے لیے مختص ہونے چاہئے تھے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی آفات برسوں کی محنت سے حاصل ہونے والی ترقی کے ثمرات کو مٹا رہی ہیں جبکہ ٹیکنالوجی میں عدم مساوات پرانے معاشرتی اور اقتصادی فاصلے کو ایک نئے ڈیجیٹل دور میں منتقل کرنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایسے حق کو حقیقت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اسے عملی جامہ پہنانے کے ذرائع ہی فراہم نہ کیے جائیں، لہٰذا ایک فعال اور موثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہماری ترقی کی کوششیں ملکی ضروریات کے مطابق تیار کردہ معاشی تبدیلی کے منصوبے پر مبنی ہیں جس میں برآمدات میں اضافہ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو اپنانا، موثر موسمیاتی اقدامات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور مساوات و بااختیار بنانے کو یقینی بنانا شامل ہے،چین پاکستان اقتصادی راہداری اس ایجنڈے کی تکمیل میں معاون ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی کوششوں سے آگے بڑھتے ہوئے حق ترقی کے حصول کے لیے ہمیں قرضوں کے بحران سے نمٹنا ہوگا، میں اسے قرضوں کا جال کہتا ہوں، بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات لانا ہوں گی تاکہ رعایتی مالی معاونت فراہم کی جا سکے، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے اور نقصانات و تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے معاونت فراہم کی جائے اور ڈیجیٹل و مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں موجود خلیج کو ختم کیا جا ئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان حق ترقی سے متعلق بین الاقوامی عہدنامے کو جلد از جلد اپنانے کی بھی حمایت کرتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ترقی کا حقیقی پیمانہ یہ نہیں کہ دنیا کتنی آگے بڑھتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ انسانیت اجتماعی طور پر کس حد تک ایک ساتھ آگے بڑھتی ہے، آئیے اس سالگرہ کو اس لمحے کی علامت بنائیں، جب ہم محض اعلامیہ سے آگے بڑھتے ہوئے عملی اقدامات کی جانب قدم بڑھائیں۔











