وزیر مملکت ڈاکٹر مختار بھرتھ کی صدارت میں مینٹل ہیلتھ کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہ

3

اسلام آباد، 20 ستمبر( اے پی پی): پاکستان یکم اور دو اکتوبر کو گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کی میزبانی کرے گا، یہ سمٹ عالمی یومِ ذہنی صحت 2026 کے سلسلے میں منعقد ہوگا۔ سمٹ میں قومی و عالمی ماہرین، پالیسی ساز اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شرکت کریں گے۔ دو روزہ سمٹ میں وفاقی و صوبائی حکومتوں اور پارلیمنٹیرینز کے نمائندے شرکت کریں گے۔

ترجمان وزارت صحت کے مطابق  موسمیاتی خطرات اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر ذہنی صحت کا نظام سمٹ کا مرکزی موضوع ہے۔

وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ پاکستان میں ذہنی، اعصابی اور منشیات کے استعمال سے متعلق بیماریوں کا بوجھ نمایاں ہے، محدود وسائل اور بکھرے نظام کے باعث ذہنی صحت کی سہولیات بڑے شہری مراکز تک محدود ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 10 سے 16 فیصد بالغ افراد ہلکے سے درمیانے درجے کے نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں، ایک سے دو فیصد افراد شدید نوعیت کی ذہنی بیماریوں سے متاثر ہیں۔ ذہنی صحت کے مسائل پاکستانی خواتین میں معذوری کے مجموعی بوجھ میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ پاکستان میں ذہنی صحت کی خدمات کے حصول میں بڑا خلا موجود ہے، 80 فیصد سے زائد ذہنی مریض سالانہ باقاعدہ علاج سے محروم رہتے ہیں۔ 24 کروڑ سے زائد آبادی کے لیے تقریباً 500 ماہر نفسیات اور 200 کلینیکل سائیکالوجسٹس خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات نے ذہنی صحت کے مسائل میں مزید اضافہ کیا ہے، 2022 کے سیلاب سے تقریباً تین کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ سیلاب کا پانی اتر جاتا ہے لیکن ذہنی صحت پر اس کے اثرات دیرپا رہتے ہیں، سیلاب سے متاثرہ بچے آج بھی قدرتی آفات کے ذہنی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہر پانچ میں سے ایک فرد کو ذہنی صحت کی خدمات کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ ابتدائی جائزوں کے مطابق متاثرہ آبادی کے 38 فیصد افراد میں ڈپریشن اور 20 فیصد میں اضطراب کی علامات پائی گئیں۔ 2020 میں ذہنی بیماریوں کے باعث ملکی معیشت کو تقریباً 617 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔

وزارتِ صحت صوبوں اور علاقوں کی مشاورت سے قومی ذہنی صحت پالیسی 2026-35 کی تیاری پر کام کر رہی ہے، قومی ذہنی صحت پالیسی کا مقصد ترجیحات اور عزم کو صوبائی و علاقائی سطح پر عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔ گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ قومی ذہنی صحت پالیسی کو آگے بڑھانے کے لیے اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ ذہنی صحت کو طویل عرصے تک عوامی ذمہ داری کے بجائے نجی مسئلہ سمجھا جاتا رہا، شواہد واضح کرتے ہیں کہ ذہنی صحت پاکستان کے صحت کے نظام کا مرکزی حصہ ہے۔ ذہنی بیماری پاکستان میں معذوری کے ساتھ گزارے جانے والے برسوں کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، ذہنی صحت کو صحت کے نظام کے مرکز میں رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مستقبل کے لیے تیار صحت کے نظام کو موسمیاتی اور ذہنی صحت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی تیار ہونا ہوگا۔

سمٹ میں اقوام متحدہ کے شراکت دار اداروں اور ملکی و بین الاقوامی ماہرینِ ذہنی صحت، نوجوانوں، سول سوسائٹی اور ذہنی صحت کے مسائل سے گزرنے والے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے گا۔ سمٹ میں بچوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت، خودکشی کی روک تھام اور منشیات کے استعمال پر تبادلہ خیال ہوگا۔ ڈیجیٹل مینٹل ہیلتھ، جدت اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر نظام پر بھی غور ہوگا۔ جنوبی ایشیا میں بچوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت سے متعلق تجزیاتی رپورٹ سمٹ کے موقع پر جاری کی جائے گی۔ ذہنی صحت اور نفسیاتی معاونت کو قدرتی آفات اور ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کی حکمت عملیوں میں شامل کرنے پر توجہ دی جائے گی۔

سمٹ میں ذہنی صحت سے متعلق سیاسی اور ادارہ جاتی عزم مزید مضبوط بنانے پر اسلام آباد ڈیکلریشن متوقع ہے، مساوی، کمیونٹی پر مبنی اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے قابل ذہنی صحت کی خدمات کے لیے ترجیحات طے ہونے کی توقع ہے۔ ڈیکلریشن میں ذہنی صحت کو بنیادی صحت، اسکولوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام میں شامل کرنے پر زور ہوگا۔

ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ سمٹ ذہنی صحت سے متعلق پالیسی سازی اور خدمات کی منصوبہ بندی میں متاثرہ افراد کی بامعنی شمولیت کو فروغ دے گا، ذہنی صحت کے شعبے میں WHO، یونیسیف، تعلیمی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں سے تعاون بڑھانے، پاکستانی تارکینِ وطن اور فلاحی اداروں کے ساتھ شراکت داری اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور ذہنی صحت کی خدمات کو یونیورسل ہیلتھ کوریج کا حصہ بنانے کی جانب پیش رفت پر توجہ دی جائے گی۔ سمٹ کا مقصد صرف دستاویز کی تیاری نہیں بلکہ عملی اقدامات کے لیے عزم کو مضبوط بنانا ہے۔ ذہنی صحت کے لیے مالی وسائل، تربیت یافتہ افرادی قوت اور عوام تک خدمات کی فراہمی پر عملی کام کیا جائے گا اور ذہنی صحت کے اقدامات کی پیش رفت کو باقاعدگی سے جانچنے کے نظام پر بھی توجہ دی جائے گی۔