اُرمچی، 15 ستمبر(اے پی پی): وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اُرمچی میں 2026 شنگھائی تعاون تنظیم ڈیجیٹل اکانومی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں فائبر کنکشنز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور وائرڈ براڈ بینڈ کو مزید گھرانوں تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی آئی ٹی اور آئی سی ٹی برآمدات گزشتہ مالی سال کے دوران ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ پاکستان کا اگلا ہدف محض سروسز کی برآمد نہیں بلکہ ٹیکنالوجی مصنوعات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتوں کا فروغ ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے پاس وسیع منڈیاں، توانائی و معدنی وسائل، سائنسی صلاحیتیں اور نوجوان افرادی قوت کا بے مثال سرمایہ موجود ہے، اس لیے ہمیں ٹیکنالوجی کے صرف صارف بننے کے بجائے ڈیجیٹل مستقبل کے تخلیق کار بننا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ “اُڑان پاکستان” کے تحت 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے برآمدات، پیداوار، جدت، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، اور اس وژن کے پانچ بنیادی ستونوں میں شامل “ای پاکستان” ڈیجیٹل تبدیلی کو معاشی ترقی کا اہم رکن بناتا ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز، جدید صنعت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اپنی صلاحیتیں بڑھا رہا ہے، جبکہ تحقیق، ہنرمندی، نئے کاروبار اور صنعت کو باہم مربوط کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے مراکز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
سی پیک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک 2.0 کے تحت چین پاکستان تعاون ترقی، روزگار، جدت، گرین انرجی اور علاقائی روابط کے اہم شعبوں پر مرکوز ہے، اور اس کے خصوصی اقتصادی زونز چینی ٹیکنالوجی اور پاکستانی کاروباری صلاحیت کو علاقائی منڈیوں سے جوڑ سکتے ہیں۔
فورم سے خطاب کے دوران انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے یہ عملی تجاویز بھی پیش کیں کہ ایس سی او کے تحت ایک ڈیجیٹل تجارتی راہداری قائم کی جائے جس میں کسٹمز، ترسیل، برقی تجارتی دستاویزات، ڈیجیٹل دستخط اور سرحد پار ادائیگیوں کے نظام کو خطے میں باہم مربوط کیا جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور طرزِ حکمرانی کا مشترکہ نظام وضع کرنے، اس شعبے میں مشترکہ تحقیق، کثیر لسانی ماڈلز، جامعات کے درمیان شراکت داری اور انسانی وسائل کی ترقی کو فروغ دینے پر زور دیا، تاکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو خواتین، نوجوانوں، دیہی آبادی، چھوٹے کاشتکاروں اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں (SMEs) کے لیے ترقی کا موثر ذریعہ بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے چین، وسطی و جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک اہم رابطہ بناتی ہے، اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے زراعت، صنعت، کان کنی اور توانائی جیسے شعبوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان چین اور شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے لیے بھرپور کام کرنے کو تیار ہے۔











