اسلام آباد۔03 ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے جمعرات کو اسلام آباد میں آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ کی جنرل منیجر پارٹنرشپس ڈاکٹر سوزی نیومین اور آسٹریلوی ہائی کمشنر نے ملاقات کی، جس میں زرعی تحقیق، موسمیاتی لچک، زرعی حیاتیاتی تحفظ، آبی انتظام اور زرعی تجارت سمیت باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے آسٹریلیا کے ساتھ 1984ء سے جاری دیرینہ شراکت داری کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ زرعی تحقیق کو عملی، قابلِ توسیع اور کسان دوست حل میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے بالخصوص موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والی زراعت، آبی انتظام، فصلوں کی بہتری، باغبانی اور زرعی ویلیو چینز کی ترقی کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
آسٹریلوی وفد نے پاکستان کی زرعی ترجیحات کے مطابق تعاون مزید بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ وفد نے طلب پر مبنی اور مقامی سطح پر ہونے والی تحقیق، استعدادِ کار میں اضافے اور تحقیقی نتائج کو کسانوں کے لیے عملی فوائد میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں پاکستان کی زرعی اور باغبانی کی برآمدات کو آسٹریلیا تک وسعت دینے پر گفتگو کی گئی۔ وفاقی وزیر نے زرعی حیاتیاتی تحفظ، کیڑوں کی جدید مالیکیولر تشخیص، ڈی این اے بارکوڈنگ، قرنطینہ انتظام، پر مبنی نگرانی اور ٹڈی دل سے نمٹنے کے لیے ماحول دوست اور ڈیجیٹل پلانٹ ہیلتھ سسٹمز میں تکنیکی تعاون کی تجویز دی۔
اجلاس کے دوران کے مالی تعاون سے جنوبی دریائے سندھ کے طاس میں جاری آبی لچک اور دیہی روزگار کے منصوبے کا جائزہ بھی لیا گیا۔ رانا تنویر حسین نے منصوبے کی پائیداری کے لیے مقامی تحقیقی اداروں کی شمولیت مزید مضبوط بنانے پر زور دیا جبکہ آسٹریلوی وفد نے پاکستان کے مسلسل ادارہ جاتی تعاون کی تعریف کی۔
دونوں جانب سے غذائی تحفظ اور زرعی ضروریات سے ہم آہنگ نئے، نتائج پر مبنی تحقیقی منصوبوں اور محققین کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے زرعی برآمدات اور آبی انتظام سمیت مختلف شعبوں میں آسٹریلیا کے ساتھ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔











