پاکستان کا شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے میں پیش رفت کا خیرمقدم، مسلسل روابط اور تعاون پر زور

0

اقوام متحدہ، 3 ستمبر (اے پی پی): پاکستان نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معاملے میں ہونے والی پیش رفت اور شامی حکومت کی جانب سے اپنی سرزمین پر کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق سرگرمیوں سے نمٹنے کے عزم کا خیرمقدم کیا ہے۔ پاکستان نے بقیہ 26 میں سے 19 زیرِ التوا امور کو حل کرنے کے لیے مسلسل روابط اور تعاون جاری رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ، بالخصوص شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے شامی عرب جمہوریہ کی جانب سے حال ہی میں ارسال کیے گئے دو مراسلات کا خیرمقدم کیا۔ ان میں کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق سرگرمیوں کے مقامات کا جائزہ اور حال ہی میں ظاہر کی گئی ایسی دو ذخیرہ گاہوں کا جائزہ بھی شامل تھا جو کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شام کی حکومت کی جانب سے حاصل کی گئی پیش رفت تحسین اور حوصلہ افزائی کی مستحق ہے۔ آگے بڑھنے کا راستہ شام اور او پی سی ڈبلیو کے ٹیکنیکل سیکریٹریٹ کے درمیان موجود تعاون اور باہمی اعتماد کی فضا کو مزید مستحکم کرنے میں ہے۔

سفیر عثمان جدون نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی برادری کو ضروری تکنیکی معاونت، مہارت اور استعدادِ کار میں اضافے کے لیے تعاون فراہم کرتے ہوئے شام کی کوششوں میں معاونت کرنی چاہیے، تاکہ زیرِ التویٰ امور کے حل میں سہولت پیدا ہو۔ انہوں نے شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی فرد یا فریق کی جانب سے، کسی بھی مقام پر اور کسی بھی صورتِ حال میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی واضح اور غیر متزلزل مخالفت کرتا ہے۔ ہم کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کو عالمی تخفیفِ اسلحہ اور عدمِ پھیلاؤ کے نظام کا ایک بنیادی ستون سمجھتے ہیں اور اس کے مکمل، مؤثر اور غیر امتیازی نفاذ کی حمایت کرتے ہیں۔

سفیر عثمان جدون نے زور دیا کہ شام اور کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کے درمیان مسلسل تعاون، عالمی برادری کی معاونت اور آزادانہ تکنیکی تصدیق کی رہنمائی میں، زیرِ التویٰ امور کے حل اور شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معاملے کو کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے تعمیری روابط، عالمی معاونت اور شفافیت و آزادانہ تکنیکی تصدیق کے اصولوں کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مسلسل تعاون کے نتیجے میں تمام زیرِ التوا امور حل ہوں گے اور شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معاملے کو بالآخر مکمل کیا جا سکے گا۔