پاکستان کے نائب مستقل مندوب،سفیر عثمان جدون کا سلامتی کونسل کے اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال،بشمول مسئلہ فلسطین،پر بیان

0

اقوام متحدہ،29 ستمبر(اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، بشمول مسئلہ فلسطین، پر بیان میں کہا ہے کہ دو ریاستی حل مسئلہ فلسطین کے لیے بین الاقوامی طور پر متفقہ فریم ورک اور منصفانہ و پائیدار امن کی ناگزیر بنیاد ہے۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے دنیا بھر کے رہنما جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے لیے اکٹھے ہوئے۔ اس دوران ہونے والے متعدد اجلاسوں اور دیے گئے بیانات سے ایک پیغام پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آیا،دو ریاستی حل فلسطین کے مسئلے کے لیے بین الاقوامی سطح پر متفقہ فریم ورک اور منصفانہ و پائیدار امن کی ناگزیر بنیاد بدستور ہے۔ تاہم،قابض طاقت اسرائیل کی جانب سے دانستہ طور پر ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو زمینی حقائق کو اس انداز میں تبدیل کر رہے ہیں کہ انہیں واپس پلٹنا مشکل، بلکہ ناممکن، ہو جائے گا۔

مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم،میں غیر قانونی آباد کاری میں توسیع کو فلسطینی سرزمین کی آبادیاتی اور جغرافیائی ہیئت تبدیل کرنے کے لیے ایک دانستہ حکمتِ عملی کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ E1 منصوبے پر تیزی سے پیش رفت، جس کے تحت 3,401 رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کیے گئے ہیں،فلسطینی علاقوں کے باہمی جغرافیائی اتصال کو منقطع کرنے اور ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو نقصان پہنچانے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔

 آبادکاروں کے تشدد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے،اور OCHA

کے مطابق رواں سال اب تک ایسے 1,600 سے زائد حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ یہ اب الگ تھلگ واقعات نہیں رہے،بلکہ فلسطینی آبادیوں کے خلاف منظم حملوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جنہیں عدمِ مواخذے کے ماحول اور ریاستی مشینری کی سرپرستی حاصل ہے۔ انہدام، اراضی پر قبضے، جبری بے دخلی اور اسرائیلی انتظامی کنٹرول میں مسلسل توسیع کے ساتھ یہ اقدامات الحاق کے عمل کو مستحکم اور امن کی بنیادوں کو مسمار کر رہے ہیں۔

 پاکستان غیر قانونی بستیوں سے حاصل ہونے والی اشیاء کے حوالے سے برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی جانب سے اعلان کردہ پابندیوں اور دیگر ممالک کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے۔ یہ اقدامات ایک اہم پیغام دیتے ہیں کہ غیر قانونی آباد کاری کی سرگرمیوں اور اسے برقرار رکھنے والوں کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں باہم تقویت دینے والے متعدد فریم ورک وجود میں آئے ہیں، جن میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2803، غزہ کے تنازع کے خاتمے کا جامع منصوبہ، اور نیو یارک اعلامیہ شامل ہیں۔ پاکستان ان تمام فریم ورک پر نیک نیتی کے ساتھ مکمل عمل درآمد کی حمایت کرتا ہے۔ عمل درآمد کے تمام متعلقہ طریقہ کار کو ان مشترکہ مقاصد کو تقویت دینی چاہیے اور ایک قابلِ اعتبار سیاسی افق کی جانب پیش رفت کو یقینی بنانا چاہیے۔

 ہماری اجتماعی کوششوں کا محور ایک ایسے قابلِ اعتبار،معینہ مدت کے حامل اور ناقابلِ واپسی سیاسی عمل پر مرکوز ہونا چاہیے،جو اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرے،جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔