ڈی آئی خان حملے کے تانے بانے کابل سے ملتے ہیں، پاکستان میں 70 فیصد دہشت گردی میں افغان ملوث ہیں: طلال چوہدری

8

اسلام آباد، 28 ستمبر (اے پی پی): وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ ڈھائی سے تین سال کے دوران پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں اور حملہ آور گروہوں میں 70 فیصد افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں جبکہ ڈی آئی خان چیک پوسٹ حملے میں ملوث دہشت گرد کے تانے بانے بھی کابل سے ملتے ہیں۔

پیر کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کے ہمراہ پی ٹی وی ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈی آئی خان چیک پوسٹ حملے میں سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ معصوم شہری، خواتین، بچے اور غیر مسلح ریسکیو اہلکار شہید ہوئے۔ حملے میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد کا نادرا میں کوئی ریکارڈ نہیں ملا تاہم اوپن سورس انٹیلی جنس کے ذریعے اس کی کابل میں موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے دوطرفہ سطح پر، بین الاقوامی فورمز، ڈوزیئرز اور مذاکرات کے ذریعے متعدد مرتبہ افغان عبوری حکومت کے سامنے اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا معاملہ اٹھایا، تاہم ان کے بقول اس سلسلے میں مؤثر اقدامات نہیں کئے گئے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی سیاسی قیادت گزشتہ 14 سال کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کو درکار قیادت اور وسائل فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے سوال کیا کہ این ایف سی کے تحت ملنے والے 800 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے، جبکہ صوبے میں سی ٹی ڈی کو آج بھی مناسب انفراسٹرکچر، بلٹ پروف گاڑیوں، جیکٹس اور جدید تربیت کی کمی کا سامنا ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی قیادت سکیورٹی اجلاسوں، آل پارٹیز کانفرنس اور قومی انسداد دہشت گردی سے متعلق اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل تعاون اور قومی سلامتی کے فورمز پر فعال شرکت ناگزیر ہے۔

صحافیوں کے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے 325 راستوں میں سے کوئی راستہ بند نہیں کیا گیا۔ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور عدالتی احکامات کے پیش نظر کنٹینرز سمیت احتیاطی انتظامات کئے گئے ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ فرانزک لیبارٹریوں، سیف سٹی منصوبوں اور جدید آلات کے بغیر دہشت گردی اور جرائم کا مؤثر مقابلہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے آدھے سے زائد اضلاع میں سی ٹی ڈی کی موجودگی نہیں جبکہ دہشت گردی سے شدید متاثرہ پشاور میں بھی سیف سٹی منصوبے پر پیش رفت تاخیر سے ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات کے ہمراہ جلد نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر وفاق اور صوبوں کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔