اسلام آباد، 08 ستمبر ( اے پی پی): وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت گورننس انڈیکیٹرز کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک، سیکریٹری خزانہ اور سیکریٹری کابینہ ڈویژن سمیت دیگر متعلقہ وفاقی و صوبائی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ملک میں گورننس انڈیکیٹرز کی کارکردگی میں بہتری کے لیے ایک جامع روڈ میپ پر غور کیا گیا اور شرکا کو معاشی استحکام، کریڈٹ ریٹنگز اور گورننس انڈیکیٹرز کے باہمی تعلق پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ میکرو اکنامک استحکام کے باعث گزشتہ دو سے ڈھائی برسوں میں کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری آئی ہے، تاہم عالمی ریٹنگز میں استعمال ہونے والا ڈیٹا عموماً دو سال پرانا ہونے کے باعث موجودہ اصلاحات کا مکمل اثر تاخیر سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس موقع پر وزیر قانون نے گورننس انڈیکیٹرز میں بہتری کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جو ایک ہفتے میں جائزہ لے کر سفارشات اور روڈ میپ پیش کرے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ذیلی کمیٹی پاکستان کے حالات اور ادارہ جاتی ڈھانچے کے مطابق فوری، درمیانی اور طویل المدتی قابلِ عمل اصلاحات تجویز کرے، بین الاقوامی طریقہ ہائے کار کا جائزہ لے، اور وفاقی و صوبائی سطح پر ذمہ داریوں کے واضح تعین کے ساتھ فوری اقدامات پر مبنی عبوری رپورٹ تیار کرے تاکہ گورننس کی بہتری کے ساتھ ملک کی عالمی ساکھ کو بھی مضبوط بنایا جا سکے۔











