اسلام آباد۔ 22 اکتوبر (اے پی پی): وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رہائشی سیکٹرز کے قیام کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کا عمل جاری ہے، 515 متاثرین میں سے 412 کو زمین یا نقد رقم کی صورت میں معاوضہ فراہم کیا جا چکا ہے، جبکہ تعمیر شدہ املاک کے 2 ہزار 51 کیسز میں سے تقریباً ایک ہزار 800 کو معاوضہ دیا جا چکا ہے۔ متاثرین کے باقی مسائل کے حل کے لیے سی ڈی اے کے اعلیٰ حکام کے ساتھ خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر کی زیر صدارت توجہ دلاؤ نوٹس پر ارکان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ اسلام آباد میں رہائشی سیکٹرز کی ترقی کے لیے اراضی حاصل کرنے کے دوران متاثر ہونے والے افراد کو معاوضے کی ادائیگی کے دو طریقے اختیار کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم یا متبادل پلاٹ کی فراہمی شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اراضی کے مجموعی طور پر 515 متاثرین میں سے 412 کو معاوضہ ادا کیا جا چکا ہے، جبکہ تقریباً 80 متاثرین کے معاملات ابھی زیر التوا ہیں۔ ان میں بعض کیسز خاندانی تنازعات، قانونی پیچیدگیوں اور عدالتی کارروائیوں کے باعث حل طلب ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ تعمیر شدہ املاک یعنی بلٹ اَپ پراپرٹی کے مجموعی طور پر 2 ہزار 51 کیسز میں سے تقریباً ایک ہزار 800 متاثرین کو معاوضہ فراہم کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی معاملات پر کارروائی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں سی ڈی اے کے متعلقہ ممبر کے ساتھ اسلام آباد کے تینوں ارکان قومی اسمبلی کی موجودگی میں متاثرین کے مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اس دوران طے پایا کہ حقیقی متاثرین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے گا اور آئندہ چند روز میں وہ خود سی ڈی اے کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ متاثرین کے معاملات کا جائزہ لیں گے تاکہ ان کے جائز مسائل حل کیے جا سکیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ متاثرین کو معاوضوں کی بروقت ادائیگی نہ ہونے اور گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بلٹ اَپ پراپرٹی سے متعلق قواعد میں تین مرتبہ تبدیلیوں کے باعث مختلف پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اراضی کے حصول کے وقت موجود متاثرین اور بعد میں سامنے آنے والے دعویداروں کے معاملات میں فرق کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے سیکٹر سی سولہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب اس سیکٹر کے لیے اراضی حاصل کی گئی تو وہاں تعمیر شدہ ڈھانچوں کی تعداد ایک ہزار 115 تھی، تاہم اب یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 4 ہزار 600 ہو چکی ہے، جو تقریباً 312 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ بعض افراد نے اپنی رہائشی ضروریات کے تحت تعمیرات کی ہیں، تاہم ایسے معاملات بھی سامنے آئے ہیں جن میں معاوضے یا متبادل پلاٹ کے حصول کے لیے اضافی ڈھانچے تعمیر کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہر تعمیر کے بدلے متبادل پلاٹ دینے کا طریقہ اختیار کیا جائے تو متعلقہ سیکٹر میں دستیاب پلاٹ ناکافی ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلٹ اَپ پراپرٹی سے متعلق موجودہ قواعد میں کئی ابہام موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ اراضی کے حصول کے وقت کی صورتحال، متعلقہ قواعد اور متاثرین کے جائز حقوق کو مدنظر رکھ کر معاوضوں کے معاملات حل کیے جائیں گے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت حقیقی متاثرین کے حقوق کا تحفظ اور اسلام آباد کے زیر التوا رہائشی سیکٹرز کی ترقی کا عمل مکمل کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔











