اسلام آباد،20اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر ہمارے ساتھ بیٹھ کر اتفاق رائے پیدا کریں ، ایک دوسرے کے ساتھ نفرت کا ماحول پیدا کرنے سے ملک میں استحکام نہیں آئے گا، سیاسی تفریق اور پنجہ آزمائی کے لیے ملک کو داؤ پر نہ لگائیں، دہشت گردی کے مکمل خاتمہ تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لئے امن و استحکام کا قیام ، سرمایہ کاری میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کے لیے پرامن ماحول لانا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھی چیلنجنگ صورتحال ہے کن کن ملکوں کی ایجنسیاں بی ایل اے کی مالی معاونت کر رہی ہیں اور انہیں دنیا کا جدید ترین اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا مسائل کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، وہاں پر وسائل نہیں ہیں، کے پی میں من و سلوی نہیں اتر رہا تھا جو وفاقی حکومت حاصل کرنا چاہتی تھی، کے پی کے 12 اضلاع میں قائم کونسل میں مشران کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کونسل میں اچھی شہرت اور کردگی کے حامل لوگ شامل کیے گئے ہیں۔وفاقی حکومت کے پاس سوائے کامیابی کے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ وہاں پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا جا رہا ہے۔ بھارت افغانستان کے ذریعے یہاں پر دہشت گردوں کی معاونت کر رہا ہے ۔کے پی میں دائمی امن قائم کیا جائے گا اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، اس کے بعد وہاں ترقیاتی عمل شروع کیا جائے گا۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں اپنے سیکیورٹی اداروں کی مکمل حمایت کر رہی ہے اور ان کے شانہ بشانہ صف اول میں کھڑی ہے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں ہمارے ساتھ بیٹھیں اور دہشت گردی کے خاتمہ کے ایک نکاتی ایجنڈے پر اتفاق رائے پیدا کریں کیونکہ یہ ملک کی سلامتی اور بقاء کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اپنے 12 سالہ دور حکومت میں دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کر سکی فوج اور پولیس کے افسروں اور جوانوں کی لاشیں ان کے گھروں میں جا رہی ہیں اور یہ سڑکوں پر انڈر 19 کھیل رہے ہیں ۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ معدنیات کے حوالے سے وہ جماعت الزام لگا رہی ہے جو خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی دہشت گردی میں اپنی جانیں دیں، وہ بھی ہمارے ساتھ مل بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف اتفاق رائے پیدا کریں ۔انہوں نے کہا کہ معدنیات کے حوالے سے کسی دوسرے ملک پر الزام لگانا بانی پی ٹی آئی کے سائفر کی طرح سائفر ٹو ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر معدنیات نکالنے کے لیے عالمی کمپنیاں ہمارے ساتھ کوئی معاہدہ کرتی ہیں تو وہاں کی مقامی آبادی کی صحت کا بھی خیال رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں میں اللہ تعالی نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے ۔سیاسی تفریق اور پنجاب آزمائی کے لیے ملک کو داؤپر نہ لگائیں، ایک دوسرے کے ساتھ نفرت کا ماحول پیدا کرنے سے ملک میں استحکام نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ ہم نے ملک میں استحکام لانا ہے ، بڑی واضح برتری سے ہم نے بھارت کو شکست دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور ہمیں ایک امن کے قیام کے لیے کوشاں ملک سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دلجمعی اور اچھی سوچ کے ساتھ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے ۔چار ڈرافٹ یکے بعد دیگرے تیار کیے گئے اپوزیشن کی طرف سے جنہیں مسترد کر دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ کے پی میں بیٹھنے والی قیادت کہاں سے ڈائریکشن لے رہی تھی ، مذاکراتی کمیٹی نے رات کے اڑھائی بجے ہم سے معذرت کی کہ وہ اس پر اتفاق نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے وقت کے پی کے 12 اضلاع کی بجائے پانچ میں ایمرجنسی لگانے پر بھی آمادہ تھے، کے پی کی صوبائی حکومت کو تعاون کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے آج بھی تیار ہیں اگر اپوزیشن بات کرنا چاہتی ہے تو وفاقی حکومت اس پر آمادہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ چھ ماہ تک کے پی میں گورنر اج رہے گا اور ایمرجنسی صوبے میں مکمل قیام امن تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سیاست کو تو قربان کر سکتے ہیں مگر ریاست کو قربان نہیں کر سکتے۔











