اسلام آباد، 19 اکتوبر (اے پی پی): ایئر یونیورسٹی کے شعبہ شماریات و ڈیٹا اینالیٹیکل سائنسز کی سربراہ ڈاکٹر عمارہ نواز چیمہ نے ڈیٹا کو علم، جدت اور عملی نتائج میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پیر کو شماریات، ڈیٹا اینالیٹیکل سائنسز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق تیسری بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طلبہ کو ڈیٹا سسٹمز، ان کے عملی استعمال اور زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی صلاحیت سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ علمی مباحث اور معلومات کے تبادلے کے ذریعے کانفرنس کے تعلیمی مقاصد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے طلبہ کو سیکھنے اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں بہتر بنانے کے مواقع فراہم کرنے پر منتظمین اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
ڈاکٹر عمارہ نواز چیمہ نے صنعت، تعلیمی اداروں اور حکومت کے درمیان تعاون مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تحقیق، جدت اور ترقی کے عمل میں کمیونٹیز کو بھی اہم شراکت دار بنا کر روایتی سہ فریقی ماڈل کو چار فریقی ماڈل میں تبدیل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ خیالات کا تبادلہ کریں، جدید رجحانات کا جائزہ لیں اور ڈیٹا اینالیٹیکل سائنسز کے فروغ کے لیے دیرپا تعاون قائم کریں۔
اس موقع پر ایئر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایئر مارشل (ر) عبدالمعید خان ہلال امتیاز (ملٹری)، یونیورسٹی آف سرگودھا کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات اور آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سدرن کوئنزلینڈ، ٹووومبا کے اعزازی پروفیسر ڈاکٹر شاہ جہاں خان سمیت دیگر ممتاز مقررین نے بھی خطاب کیا۔
ایئر یونیورسٹی کے شعبہ شماریات و ڈیٹا اینالیٹیکل سائنسز کے زیر اہتمام دو روزہ کانفرنس محققین، طلبہ، صنعت سے وابستہ افراد، پیشہ ور ماہرین اور سرکاری شعبے کے نمائندوں کو شماریات، ڈیٹا اینالیٹکس اور مصنوعی ذہانت میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال اور معلومات کے تبادلے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔ کانفرنس منگل کو بھی جاری رہے گی، جس میں ان شعبوں میں جدید پیش رفت پر مزید نشستیں منعقد ہوں گی۔
شعبہ شماریات و ڈیٹا اینالیٹیکل سائنسز کا صرف ایک سال میں سات ایم ایس طلبہ سے بڑھ کر تقریباً 400 طلبہ پر مشتمل تعلیمی برادری بننا ایک اہم سنگ میل ہے، جو پاکستان میں ڈیٹا سائنس کی تعلیم، تحقیق اور جدت کے فروغ کے لیے شعبے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔











