ایکسس ٹو فنانس اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس، ترجیحی شعبوں میں مالیاتی سہولیات تک رسائی کے فروغ اور مختلف اقدامات پر پیشرفت کا جائزہ

0

اسلام آباد، 7 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایکسس ٹو فنانس اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ترجیحی شعبوں میں مالیاتی سہولیات تک رسائی کے فروغ اور مختلف اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا

وفاقی وزیر خزانہ نے مالیاتی سہولیات تک رسائی کے اقدامات پر عملدرآمد، مؤثر نتائج اور آئندہ کے اقدامات پر پیش ر فت کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے فنانسنگ، زرعی شعبے، ہاؤسنگ فنانس اور دیگر ترجیحی شعبوں میں پیش ر   فت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ایس ایم ای فنانسنگ اور قرض لینے والے کاروباری افراد کی تعداد میں بہتری آئی ہے، جبکہ حکومت کا مقصد ایس ایم ایز کے لیے مالیاتی سہولیات کو مزید وسعت دینا ہے۔

وزیر خزانہ نے ایس ایم ایز کے لیے بینکنگ، مائیکروفنانس اور دیگر مالیاتی اداروں کے کردار کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں تاکہ کاروباری اداروں کو رسمی مالیاتی نظام سے زیادہ مؤثر انداز میں منسلک کیا جا سکے۔

اجلاس میں ایس ایم ایز کی استعداد کار، مالیاتی آگاہی، دستاویزی معاونت اور ڈیجیٹل سہولیات کے فروغ سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے متعلقہ اداروں کو ان اقدامات کو ایک مربوط ایکشن ٹریکر کے تحت آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔

زرعی فنانس کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ زرعی شعبے کے لیے مالیاتی سہولیات میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ وزیراعظم کی زرعی قرضہ اسکیم کے تحت چھوٹے کاشتکاروں کو بلا ضمانت قرضوں کی فراہمی بھی جاری ہے۔ اجلاس میں زرعی ویلیو چین، لائیو اسٹاک، فشریز اور دیگر شعبوں کے لیے مالیاتی سہولیات مزید بہتر بنانے پر غور کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے لائیو اسٹاک کے شعبے میں مالیاتی سہولیات کے فروغ اور نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے پر زور دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے مؤثر مالیاتی فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں ہاؤسنگ فنانس میں  پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور گھروں کی خریداری کے ساتھ ساتھ تعمیراتی شعبے، ڈویلپرز اور بلڈرز کے لیے مالیاتی سہولیات کے فروغ پر زور دیا گیا۔ وزیر خزانہ نے سستے گھروں کی فراہمی کے لیے سپلائی سائیڈ فنانسنگ کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس میں ذمہ دارانہ قرضہ فراہمی اور بہتر رسک اسیسمنٹ کے لیے ڈیٹا کی دستیابی اور معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے متعلقہ اداروں کو محفوظ اور مؤثر انداز میں ڈیٹا کے استعمال کے ذریعے مالیاتی اداروں کی قرضہ فراہمی کی استعداد بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن اسکیم کے تحت بھی پیش ر  فت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ الیکٹرک دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے مالیاتی سہولیات کی فراہمی جاری ہے اور متعدد منظور شدہ قرضے مستحق افراد کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔ وزیر خزانہ نے اسکیم کے تحت منظور شدہ فنانسنگ کو گاڑیوں کی فراہمی میں تبدیل کرنے کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی معاونت پر مبنی مالیاتی اسکیموں کا مقصد مارکیٹ کی حقیقی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے نجی شعبے کی پائیدار شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ وزارتوں، ریگولیٹرز، مالیاتی اداروں اور نجی شعبے پر زور دیا کہ مالیاتی سہولیات تک رسائی کو مزید وسیع اور مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایکسس ٹو فنانس ایجنڈے کا مقصد صرف مالی وسائل کی دستیابی بڑھانا نہیں بلکہ ایسا جامع اور مضبوط مالیاتی نظام تشکیل دینا ہے جو ایس ایم ایز، کسانوں، گھرانوں اور دیگر مستحق طبقات کو پائیدار بنیادوں پر مالیاتی سہولیات فراہم کر سکے۔

اجلاس میں وفاقی سیکرٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، چیئرمین پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، چیف ایگزیکٹو آفیسر کرانداز پاکستان، چیف ایگزیکٹو آفیسر سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور فنانس ڈویژن، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ایس ای سی پی اور متعلقہ سرکاری اداروں کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔