اسلام آباد،07 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت پاور سیکٹر کے ریگولیٹری نظام سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات، کارکردگی میں بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ اور نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان کے پاور سیکٹر میں جاری تبدیلیوں اور شعبے کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر بجلی کے شعبے میں شمسی توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور طلب کے بدلتے رجحانات کے تناظر میں ایسے ریگولیٹری نظام کی ضرورت پر زور دیا گیا جو جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، صارفین کے مفادات اور شعبے کی کارکردگی کو مؤثر انداز میں سپورٹ کر سکے۔
اجلاس میں پاور سیکٹر میں کارکردگی بہتر بنانے، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور ریگولیٹری نظام میں مزید پیش بینی اور شفافیت لانے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ریگولیٹری فریم ورک میں ایسے مؤثر اقدامات شامل ہونے چاہئیں جو کارکردگی، سروس کے معیار اور مسابقت کو فروغ دیں اور نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری کے مزید مواقع پیدا کریں۔
کمیٹی نے بجلی کی ترسیل اور فراہمی کے شعبوں میں مؤثر تقسیم اور مسابقتی ماحول کے فروغ کے امکانات کا جائزہ لیا۔ اس حوالے سے نیٹ ورک آپریشن اور سپلائی کے افعال کو مناسب ریگولیٹری فریم ورک کے تحت مزید مؤثر بنانے پر بھی غور کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے قابل پیش گوئی اور شفاف ریگولیٹری نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ واضح لائسنسنگ نظام اور ٹیرف کے طریقہ کار سے سرمایہ کاری کے لیے اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے، جبکہ صارفین کے مفادات کا بھی مؤثر تحفظ یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں بجلی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال، بالخصوص بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز سے پیدا ہونے والے مواقع پر بھی غور کیا گیا۔ تقسیم کار کمپنیوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کے بہتر استعمال، اضافی آمدن کے ذرائع پیدا کرنے اور صارفین کو فائدہ پہنچانے کے لیے مناسب تجارتی سرگرمیوں کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ ایسی تمام سرگرمیوں کے لیے واضح ریگولیٹری فریم ورک، شفافیت اور مناسب حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی انفراسٹرکچر سے حاصل ہونے والے فوائد صارفین تک بھی منتقل ہوں۔
اجلاس میں حکومتی معاونت کو مزید مؤثر اور ہدفی بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے مالیاتی پائیداری، سروس کے معیار میں بہتری اور صارفین کے لیے قابل برداشت بجلی کی فراہمی کو اصلاحاتی عمل کا اہم حصہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کے ریگولیٹری فریم ورک میں تقسیم شدہ بجلی کی پیداوار، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور الیکٹرک موبیلیٹی سمیت جدید ٹیکنالوجیز کو مؤثر انداز میں شامل کرنے کی گنجائش ہونی چاہیے، تاکہ نظام کی قابل اعتماد کارکردگی برقرار رکھتے ہوئے سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔
کمیٹی کو ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کے مجوزہ پروگرام، ٹرمز آف ریفرنس اور ٹیرف کے طریقہ کار پر جاری کام کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وزیر خزانہ نے ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کو متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے منظم انداز میں کام آگے بڑھانے اور عملی سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات کا عمل شواہد اور عملی تجاویز کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت اور مقررہ مدت میں قابل عمل سفارشات کی تیاری کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر مملکت خزانہ، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، فنانس ڈویژن کے سینئر افسران اور متعلقہ سرکاری اداروں و اسٹیک ہولڈرز کے نمائندگان نے شرکت کی۔











