حکومت پنجاب کے ترقیاتی اقدامات سے داتا دربار کے اطراف کا منظرنامہ تبدیل، پارکنگ، پیدل اور گاڑیوں کے انڈر پاسز، واش رومز، گرین ایریاز اور جدید لائٹنگ کی سہولیات مکمل

6

لاہور 14 اکتوبر ( اے پی پی ) :سیکرٹری چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا ہے کہ داتا دربار میگا پراجیکٹ عالمی تعمیراتی معیار کا شاہکار ثابت ہوگا، جبکہ حکومت پنجاب کے ترقیاتی اقدامات اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ کاوشوں سے داتا دربار کے اطراف کے علاقے کا منظرنامہ نمایاں طور پر تبدیل ہو چکا ہے، منصوبے کے تحت بیرونی حصے میں پیزا، پارکنگ، پیدل چلنے والوں کے لیے انڈر پاس، گاڑیوں کے انڈر پاس، واش رومز، پارک اور سرسبز مقامات سمیت جدید لائٹنگ جیسی اہم سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جن سے علاقے کی خوب صورتی، آمدورفت اور زائرین کی سہولت میں بہتری آئی ہے،   نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ پاکستان اسحاق ڈار، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان اس عظیم روحانی مرکز کی ترقی اور جاری میگا پراجیکٹ کی بروقت تکمیل پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے مزار حضرت علی ہجویریؒ المعروف حضرت داتا گنج بخشؒ پر جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ہجویری ہال میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں ڈاکٹر احسان بھٹہ نے مزار پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور ملک و قوم کی سلامتی، استحکام، امن، خوشحالی اور ترقی کے لیے خصوصی دعا کی۔

ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے داتا دربار اور اس کے اطراف میں ترقیاتی کاموں کا مقصد اس اہم روحانی مرکز کو جدید شہری سہولیات سے آراستہ کرنا، زائرین کی آمدورفت کو آسان بنانا اور علاقے کو بہتر، صاف ستھرا اور خوب صورت ماحول فراہم کرنا ہے۔ منصوبے کے بیرونی حصے میں مکمل ہونے والے ترقیاتی کاموں میں پیزا، پارکنگ کی سہولت، پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کے لیے انڈر پاسز، واش رومز، پارک و گرین اسپیسز اور جدید لائٹنگ شامل ہیں۔

ان سہولیات سے علاقے کی مجموعی شہری ساخت اور آمدورفت میں بہتری آئی ہے، جبکہ زائرین اور شہریوں کے لیے زیادہ منظم ماحول کی فراہمی ممکن ہوئی ہے۔ ان ترقیاتی اقدامات میں حکومت پنجاب کے ساتھ ٹیپا ، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی  اور کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ بطور متعلقہ عمل درآمد کرنے والے ادارے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

اجلاس میں داتا دربار کمپلیکس میں جاری دو الگ الگ منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ پہلا منصوبہ مدینہ فاؤنڈیشن کی جانب سے مرکزی مزار کے بالائی حصے، یعنی مین شائن، پر جاری کام سے متعلق تھا، جبکہ دوسرا محکمہ اوقاف اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کا میگا پراجیکٹ تھا۔

اجلاس کے دوران دونوں منصوبوں کی مجموعی پیش رفت، مکمل ہونے والے کاموں، جاری تعمیراتی سرگرمیوں، باقی ماندہ کاموں، تکمیل کے آئندہ مراحل اور متعلقہ تکنیکی و انتظامی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ متعلقہ حکام نے منصوبوں کی موجودہ صورت حال، تعمیراتی رفتار اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے بریفنگ دی، جبکہ درپیش مسائل اور کام میں تیزی لانے کے لیے ضروری اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں مدینہ فاؤنڈیشن کی جانب سے اسلم ترین اور عارف سوریا، جبکہ انجم فیض کی جانب سے شہزاد نے شرکت کی۔ محکمہ اوقاف کی نمائندگی ڈائریکٹر پراجیکٹس رفیق نوروٹو، ایڈمنسٹریٹر داتا دربار محمد علی خان اور ایس ڈی او رانا زوہیب نے کی۔ بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سپرنٹنڈنگ انجینئر بلڈنگ عیسیٰ بن معین، ایکسین فہد نوید اور ایس ڈی او حذیفہ اجلاس میں شریک ہوئے۔

ڈاکٹر احسان بھٹہ نے ہدایت کی کہ ہجویری ہال کی سلیب کا کام ترجیحی بنیادوں پر جلد مکمل کیا جائے، خواتین کے احاطے سمیت دیگر متعلقہ مقامات پر تعمیراتی سرگرمیوں اور ڈسمینٹلنگ کے عمل کو تیز کیا جائے، جبکہ ڈسمینٹلنگ سے متعلق ادائیگیوں کو بھی بلا تاخیر مکمل کیا جائے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کاموں میں تسلسل برقرار رکھا جائے اور تمام مراحل مقررہ معیار اور طے شدہ مدت کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ نیسپاک اور متعلقہ تکنیکی ٹیموں کو مطلوبہ ڈرائنگز اور تکنیکی تفصیلات بروقت فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ۔

انہوں نے واضح کیا کہ تکنیکی امور یا انتظامی رکاوٹوں کے باعث تعمیراتی رفتار متاثر نہیں ہونی چاہیے۔سیکرٹری/چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب نے مزید ہدایت کی کہ دونوں منصوبوں کی مجموعی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور ہر مرحلے پر مکمل ہونے والے، جاری اور باقی ماندہ کاموں کی تفصیلات مرتب کی جائیں۔

 انہوں نے کہا کہ پندرہ روزہ جائزہ اجلاسوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ پیش رفت کی مؤثر نگرانی، مسائل کی بروقت نشاندہی اور ان کے فوری حل کے ذریعے منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعمیراتی معیار، حفاظتی تقاضوں اور شفافیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا کہ داتا دربار ملک بھر سے آنے والے لاکھوں عقیدت مندوں اور زائرین کے لیے ایک اہم روحانی مرکز ہے، اس لیے یہاں سہولیات کی بہتری، زائرین کی آسان آمدورفت، صفائی ستھرائی اور محفوظ و باوقار ماحول کی فراہمی محکمہ اوقاف کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔

 انہوں نے کہا کہ بیرونی حصے میں مکمل ہونے والے ترقیاتی کاموں کے بعد اب جاری میگا پراجیکٹ کے باقی ماندہ مراحل کو اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کرنا اہم ہدف ہے۔ متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطے، مسلسل نگرانی اور بروقت فیصلوں کے ذریعے داتا دربار کمپلیکس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ یہ عظیم روحانی مرکز زائرین کے لیے سہولت، خوب صورتی اور بہترین انتظامات کی ایک نمایاں مثال بن سکے۔