خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری کا بین الاقوامی قانون انسانیت کے یکساں اطلاق، موسمیاتی انصاف اور بچوں پر وسیع تر سرمایہ کاری پر زور

5

کراچی،24اکتوبر  (اے پی پی):خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون انسانیت کی بالادستی اور شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے، اقوام متحدہ کے اصولوں کا جغرافیائی محل وقوع، قومیت یا سیاسی حالات سے قطع نظر ہر انسانی جان پر یکساں اطلاق ہونا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے دن 2026 کی مناسبت سے کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خاتونِ اول نے ترقی، تعلیم، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور امن مشنز میں اقوام متحدہ کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ شراکت داری کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ  چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے جن کا کوئی ملک تنہا ءمقابلہ نہیں کر سکتا۔

غزہ میں معصوم شہریوں کی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے اصولوں کا ہر انسانی جان پر یکساں اطلاق ہونا چاہیے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی خطے، قومیت یا سیاسی حالات سے ہو۔

خاتونِ اول نے پاکستان میں 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی شراکت داروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت نے بحران کے دوران باہمی تعاون کی اہمیت واضح کی۔

انہوں نے موسمیاتی انصاف پر زور دیتے  ہوئے نشاندہی کی کہ موسمیاتی تبدیلی میں سب سے کم حصہ ڈالنے والے ممالک اور آبادیوں کو اکثر اس کے سنگین ترین نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پولیو کے خاتمے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو قابلِ تدارک بیماریوں سے تحفظ ملنا چاہیے، قطع نظر اس کے کہ وہ کہاں پیدا ہوا یا اس کے خاندانی حالات کیا ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے عالمی ادارہ برائے صحت، یونیسف اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے کام کرنے والے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی خدمات کو سراہا۔

بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے بچوں کی غذائیت اور تعلیم کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے عالمی خوراک پروگرام کی ’’شیئر دی میل ‘‘مہم کی حمایت کا اظہار کیا جس کا مقصد پاکستان بھر میں بچوں کو ڈیڑھ لاکھ  غذائیت سے بھرپور اسکول کھانے فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں کھانے کی فراہمی سے بچوں کی حاضری اور تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کے ساتھ انہیں صحت مند مستقبل کی جانب گامزن کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

عوامی خدمت کے لیے اپنے عزم کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والی اقدار کا ذکر کرتے ہوئے خاتونِ اول نے اپنی والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے بین الاقوامی تعاون، مکالمے، ہر بچے کے لئے تعلیم اور خواتین کو اپنے مستقبل کا  خود فیصلہ کرنے کے مواقع فراہم کرنے  پر  پختہ یقین کو یاد کیا ۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی طاقت محض بین الاقوامی معاہدوں میں نہیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں واضح تبدیلی لانے میں بھی مضمر ہے۔ انہوں نے زیادہ پُرامن اور ہمدردانہ دنیا کی تعمیر کے لیے اجتماعی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔پاکستان میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام اور حکومتِ پاکستان کے تعاون  سے منعقدہ اس تقریب میں حکومتِ سندھ اور دیگر شراکت داروں نے بھی اشتراک کار کیا۔

تقریب میں پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان آٹھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط شراکت داری کو اجاگر کیا گیا۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کی خدمات، بالخصوص امن مشنز میں کردار پر مبنی نمائش کے علاوہ معلوماتی و کیریئرز بوتھ اور ثقافتی پروگرام بھی پیش کیے گئے۔

خاتونِ اول نے تقریب کے کراچی میں  انعقاد  اور عوام کو اقوام متحدہ کے کام سے متعلق آگاہی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنے پر پاکستان میں اقوام متحدہ کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔