اسلام آباد، 15 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی اضافے اور امن و امان کی سنگین صورتحال کے باوجود صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے تحفظ کے بجائے سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دی۔ صوبے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا فیصلہ قومی سلامتی کو درپیش خطرات، دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر اور متعلقہ اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر آئینی طریقہ کار کے مطابق کیا گیا۔
جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق صدارتی اعلامیے کی توثیق کے لیے پیش کردہ قرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ صوبے میں امن و امان برقرار رکھنا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تاہم ایسے وقت میں جب صوبے کو دہشت گردی کی شدید لہر کا سامنا تھا، صوبائی قیادت کی توجہ جلسوں، سیاسی سرگرمیوں اور عوامی اجتماعات پر مرکوز رہی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے صورتحال سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ سنجیدگی نظر نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں جب پاک فوج، پولیس، دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار، علمائے کرام اور عام شہری دہشت گردی کے واقعات میں جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہوں، سیاسی قیادت کو اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے وزیر دفاع کی قومی اسمبلی اور وزیر داخلہ کی سینیٹ میں پیش کردہ تفصیلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ عرصے میں دہشت گردی کے واقعات کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست اور شہریوں کے تحفظ کا تقاضا ہے کہ سیاسی اختلافات کو وقتی طور پر پس پشت ڈال کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں سرحد پار سے دراندازی اور بیرونی مداخلت کے عوامل بھی داخلی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت اگر کسی صوبے میں آئینی طریقہ کار کے مطابق حکومتی امور چلانا ممکن نہ رہے تو گورنر صدر مملکت کو صورتحال سے آگاہ کرسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے کی صورتحال کے حوالے سے صدر مملکت کو ایک تفصیلی خط ارسال کیا، جس کے ساتھ قومی سلامتی اور دہشت گردی سے متعلق متعدد رپورٹس اور دستاویزی شواہد بھی منسلک تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان رپورٹس میں صوبے کی داخلی سلامتی، دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور صوبائی حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات کے فقدان سے متعلق معاملات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ بعض رپورٹس میں صوبائی حکومت کی کارکردگی اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں عدم توجہ کے حوالے سے بھی سنگین خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا کہ قومی سلامتی سے متعلق بعض دستاویزات حساس نوعیت کی ہوتی ہیں، اس لیے انہیں عوامی سطح پر جاری نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی جب اس نوعیت کے معاملات عدالتوں کے سامنے آئے تو حساس دستاویزات کا جائزہ بند کمرے میں لیا گیا تاکہ قومی سلامتی سے متعلق معلومات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس اور متعلقہ آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صدارتی اعلامیہ جاری کیا۔ اس فیصلے کے پس منظر میں داخلی سلامتی کی خراب صورتحال، بیرونی مداخلت اور صوبائی انتظامیہ کی مؤثر اقدامات کرنے کی صلاحیت سے متعلق خدشات شامل تھے۔
وفاقی وزیر قانون نے خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فراہم کیے جانے والے مالی وسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2010 میں ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت صوبے کو دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے وفاقی قابل تقسیم محاصل میں سے ایک فیصد اضافی حصہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس مد میں صوبے کو گزشتہ برسوں کے دوران تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جاچکے ہیں، تاہم اتنے بڑے مالی وسائل کی دستیابی کے باوجود صوبے میں انسداد دہشت گردی کے لیے ضروری ادارہ جاتی صلاحیت پوری طرح قائم نہیں کی جاسکی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اب تک صوبے کی اپنی مکمل فرانزک سائنس لیبارٹری قائم نہیں ہوسکی، جبکہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ڈھانچے، استعداد اور وسائل کے حوالے سے بھی خامیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپیکس کمیٹی کے اجلاسوں میں بھی ان مسائل کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبے کی مجموعی صورتحال، متعلقہ اداروں کی رپورٹس اور صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متعلق معاملات وفاقی کابینہ کے سامنے رکھے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ میں اس معاملے پر تقریباً ڈھائی گھنٹے تک تفصیلی بحث ہوئی تاکہ قومی سلامتی سے متعلق فیصلے اجتماعی مشاورت اور آئینی تقاضوں کے مطابق کیے جاسکیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد آئینی طریقہ کار اختیار کیا اور پارلیمنٹ کے سامنے صدارتی اعلامیہ پیش کیا تاکہ عوام کے منتخب نمائندے اس اہم قومی معاملے پر اپنی رائے دے سکیں۔
جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت سے متعلق صدارتی اعلامیے کی توثیق کے لیے پیش کردہ قرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس معاملے پر تفصیلی بحث ہوچکی ہے اور دونوں ایوانوں کے ارکان نے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ایوانوں نے آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صدارتی اعلامیے کی منظوری دی ہے، جو ایک جمہوری اور قانونی عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1973 کا آئین طویل بحث و مباحثے اور قومی اتفاق رائے کے نتیجے میں تشکیل دیا گیا تھا۔ آئین بنانے والوں نے اس وقت کے سیاسی اور ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پارلیمنٹ کو واضح کردار دیا۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے دوران بھی ان آئینی دفعات کا جائزہ لیا گیا اور پارلیمانی نگرانی کے طریقہ کار کو مزید مؤثر بنایا گیا۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور صوبے کے انتظامی معاملات سے متعلق واضح طریقہ کار موجود ہے۔ صدر مملکت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کرنا اسی آئینی عمل کا حصہ ہے۔ مشترکہ اجلاس کو متعلقہ آئینی شرائط کے تحت اعلامیے کی منظوری یا عدم منظوری کا اختیار حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے اسی آئینی تقاضے کی تکمیل کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا ہے۔ اس سے قبل قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس معاملے پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور حکومت نے ہنگامی حالت کے نفاذ کے محرکات اور وجوہات ایوانوں کے سامنے پیش کیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے تمام سوالات کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض ارکان نے ہنگامی حالت کے نفاذ کی ضرورت اور اس کے پس منظر کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں، تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ریاستی امور آئین کے مطابق چلائے جاتے ہیں اور آئین میں فراہم کردہ اختیارات کا استعمال غیر آئینی اقدام نہیں قرار دیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ 11 اکتوبر کو صدارتی اعلامیے کے اجرا کے بعد انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ کے ہمراہ میڈیا کو بھی فیصلے کے محرکات سے آگاہ کیا تھا، جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی تمام متعلقہ تفصیلات پیش کی گئیں۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال مسلسل تشویشناک ہوتی جارہی تھی اور صوبے میں امن و امان اور داخلی سلامتی کے حوالے سے سنگین مسائل پیدا ہورہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کی صورتحال کے بارے میں صدر مملکت اور وزیراعظم کو تفصیلی تحریری طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ہنگامی حالت کے نفاذ سے قبل متعدد مرتبہ صوبائی حکومت کے ساتھ رابطے اور مشاورت کی کوشش کی۔ وزیراعظم، صدر مملکت، وفاقی کابینہ اور متعلقہ سکیورٹی حکام کی سطح پر صوبائی حکومت کو داخلی سلامتی اور امن و امان کے مسائل سے آگاہ کیا جاتا رہا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے ساتھ سرحد پار سے دراندازی بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی تھی۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون اور رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت اپیکس کمیٹی کے اجلاس پشاور اور وفاقی سطح پر بھی منعقد ہوئے، جبکہ صوبائی سطح پر متعلقہ کمیٹیوں کے اجلاس بھی ہوتے رہے۔ وزارت داخلہ نے متعدد مرتبہ صوبائی حکومت کے ساتھ رابطہ کیا اور وفاقی وزیر داخلہ خود بھی پشاور جاتے رہے تاکہ سکیورٹی صورتحال پر مؤثر اقدامات کیے جاسکیں۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ حکومت نے ہنگامی حالت کے نفاذ کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں کیا بلکہ تمام دستیاب آئینی اور انتظامی راستے اختیار کرنے کے بعد اسے آخری آپشن کے طور پر استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بعض واقعات میں ایک ہی روز بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا۔ انہوں نے ٹانک سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ پارلیمنٹ ملک کا اعلیٰ ترین قانون ساز ادارہ ہے اور اس کے سامنے تمام حقائق رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ مشترکہ اجلاس میں معاملے پر سنجیدہ اور بامقصد بحث ہوگی اور ارکان آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔











