اسلام آباد، 15 اکتوبر (اے پی پی): نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، نیشنل ایکشن پلان، آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد کے نتیجے میں ملک سے دہشت گردی کا بڑی حد تک خاتمہ کر دیا گیا تھا، تاہم ماضی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عناصر کو دوبارہ ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کی رہائی جیسے غلط فیصلوں کے باعث دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی اتفاق رائے اور تمام سیاسی جماعتوں کا متحد ہونا ناگزیر ہے۔ سیاسی مفاہمت کے ہمیشہ حامی رہے ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں دہشت گردی کے سنگین مسئلے سے نمٹنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کئی سو ارب روپے خرچ کیے اور سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام نے بے مثال قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی تشکیل اور آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد کے نتیجے میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کس نے سرحدیں کھول کر ٹی ٹی پی کے ہزاروں عناصر کو دوبارہ پاکستان میں آنے کی اجازت دی اور کس حکومت نے سنگین جرائم میں ملوث افراد کی رہائی کے فیصلے کیے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک سیاسی جماعت کے چند افراد کے غلط فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کو دوبارہ دہشت گردی کی سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ قوم کو حقائق کا سامنا کرنا چاہیے، تمام سیاسی جماعتوں میں محب وطن افراد موجود ہیں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں پارلیمنٹ نے انتہائی مشکل سیاسی حالات میں بھی اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 2014 کے طویل دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پارلیمنٹ کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرکے صورتحال کا مقابلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی مفاہمت پر یقین رکھتے ہیں تاہم دہشت گردی کا موجودہ چیلنج سیاسی مفاہمت سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے اور اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ دسمبر 2009 میں ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے قابلِ تقسیم محاصل میں سے ایک فیصد اضافی حصہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد صوبے کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اضافی مالی وسائل فراہم کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے اندازے کے مطابق خیبرپختونخوا کو اس مد میں اب تک تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ان وسائل سے صوبے میں انسداد دہشت گردی کے اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ صوبے میں طویل عرصے سے ایک ہی سیاسی جماعت کی حکومت ہونے کے باوجود انسداد دہشت گردی کے محکمے (سی ٹی ڈی) کو مطلوبہ صلاحیتوں سے آراستہ نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی دیگر صوبوں کی طرز پر جدید فرانزک لیبارٹریوں اور متعلقہ ادارہ جاتی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری امن و امان کا قیام اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ مناسب ہے کہ صوبائی سطح پر اپنی ذمہ داریاں پوری نہ ہونے کی وجہ سے مسلح افواج کو مسلسل دہشت گردی کے خلاف صف اول میں لڑنا پڑے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حکمرانی اور انتظامی کارکردگی کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہو چکے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور ترقیاتی وسائل عوام کی فلاح پر خرچ کرنے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق فیصلہ کسی ایک شخصیت کا انفرادی فیصلہ نہیں بلکہ وفاقی کابینہ میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد آئینی طریقہ کار کے مطابق اقدام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ایسی غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے واضح طریقہ کار موجود ہے۔
سیاسی مذاکرات اور مفاہمتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرکے سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان عمرے سے واپسی کے بعد وزیراعظم سے ملے اور سابقہ مذاکرات جہاں منقطع ہوئے تھے، وہیں سے دوبارہ بات چیت شروع کرنے کی تجویز دی۔ وزیراعظم نے انہیں بتایا کہ حالات کافی آگے بڑھ چکے ہیں اور معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بعد ازاں مولانا فضل الرحمان نے دوبارہ وزیراعظم سے ملاقات کی جس میں وہ خود بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا اور واضح کیا کہ موجودہ حالات میں قومی سلامتی اور دہشت گردی کے مسئلے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سیاسی مذاکرات اور مفاہمت کی اہمیت سے انکار نہیں کرتی تاہم دہشت گردی کی کھلے عام مذمت اور اس کے خلاف واضح اور غیر مبہم مؤقف اختیار کرنا ضروری ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مزید غلط فیصلوں اور دہشت گردی کی نئی لہر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ملک کے جوانوں، سیکیورٹی اہلکاروں، بچوں اور عام شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی، صوبائی حکومتوں کی مؤثر کارکردگی اور آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی ہی ملک میں پائیدار امن کے قیام کی بنیاد بن سکتی ہے۔











