اسلام آباد،8 اکتوبر (اے پی پی): وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ملک کے دفاع، امن و استحکام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور سیاسی قوتوں کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں نے امن کے لیے قربانیاں دی ہیں، ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ پوری قوم سکیورٹی اداروں اور شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہو۔
وزیر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، سکیورٹی اداروں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کو مطلوبہ وسائل اور سہولیات کی فراہمی سے ان کی استعداد کار میں مزید بہتری آئے گی۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کے حوصلے بلند رکھنے کے لیے بھرپور تعاون ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی اور امن کے معاملات پر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم بنا کر دہشت گردی کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت شہداء کے خاندانوں کے ساتھ مسلسل اظہار یکجہتی کر رہی ہے، قوم اپنے بہادر جوانوں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے یا حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ کوشش ہے۔ ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام سیاسی قوتوں، وفاقی و صوبائی حکومتوں اور ریاستی اداروں کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں قومی یکجہتی، باہمی تعاون اور مثبت سیاسی مکالمے کو فروغ دے کر امن و استحکام کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں امن کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔











