اسلام آباد،29اکتوبر(اے پی پی):وزیرریلویز حنیف عباسی نے کہاہے کہ پاکستان کو تقسیم کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا اور ملک ان شا اللہ قائم و دائم رہے گا ،سیاسی اختلافات کے باوجود ملک کی سلامتی، خودمختاری اور قومی یکجہتی کو مقدم رکھنا ہوگا۔
جمعرات کوقومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ذاتی مفادات کے لیے ہم روز پاکستان کو برا بھلا کہتے ہیں حالانکہ اسی ملک سے فائدہ بھی حاصل کرتے ہیں اور اسی کے وسائل سے مستفید ہوتے ہیں ،سیاسی بلیک میلنگ کی ایسی صورتِ حال پیدا کر دی گئی ہے کہ دنیا میں موجود بلیک میلر بھی شاید ہمارے ہاں ہونے والی بلیک میلنگ پر حیران رہ جائیں۔
وفاقی وزیرنے کہاکہ پاکستان کے خلاف ذاتی مفادات کی خاطر غیرمناسب زبان استعمال کرنا مناسب نہیں، بعض لوگ اس ملک کو بھول جاتے ہیں جس نے انہیں عزت مقام اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے۔انہوں نے کہاکہ قرآن کی آیات اور احادیث کو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے استعمال نہ کیا جائے اسلام کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا درست طرزعمل نہیں ، افسوس کی بات ہے جب ذاتی مفادات کو نقصان پہنچتا ہے تو پاکستان ہی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے شہدا وطن کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اس شہید کا ہے جس نے اس کے لیے اپنا خون دیا، اس بیوہ کا ہے جس نے اپنا شوہر کھویا، اس شہید کی ماں کا ہے جس نے اپنا لختِ جگر قربان کیا، اور ان بچوں کا ہے جنہوں نے اپنے والد کو اس ملک کے لیے قربان ہوتے دیکھا ،پاکستان صرف ان لوگوں کا نہیں جنہوں نے اقتدار کی کرسی سے اپنے لیے دولت اور وسائل جمع کیے،یہ ان کروڑوں پاکستانیوں کا ہے جو اس ملک کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ ان فوجی جوانوں کا پاکستان ہے جو سینہ تان کر سرحدوں پر کھڑے ہیں، ان غازیوں کا ہے جو دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں اور ان شہدا کا ہے جنہوں نے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں جیلوں میں ڈالا گیا، انتخابات سے چند روز پہلے ہمیں گرفتار کیا گی ،ہم نے سیاسی مشکلات اور پابندیوں کا سامنا کیا لیکن ان سب باتوں کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس پاکستان کو بھول جائیں جس نے ہمیں عزت دی۔ ہم اپنے ذاتی مفادات کے لیے اس ملک کو نہیں بھول سکتے۔ ہم اپنی جان قربان کر سکتے ہیں، لیکن پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی ختم نہیں کر سکتے۔
وفاقی وزیرنے کہاکہ سیاسی تعلقات اور اختلافات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ بعض لوگ کل تک ایک دوسرے کے خلاف تھے اور آج ایک دوسرے کے سیاسی اتحادی بن جاتے ہیں۔ یہی صورتِ حال مولانا فضل الرحمن صاحب کے حوالے سے بھی دیکھی جا سکتی ہے، جن کے ساتھ مختلف ادوار میں سیاسی تعاون بھی رہا اور اختلافات بھی ،اقتدار کی ہوس اور سیاسی مخالفت میں ہم بعض اوقات ان اصولوں کو بھی بھول جاتے ہیں جن کا احترام ضروری ہے سیاسی اختلافات کے باوجود قومی اداروں اور ان افراد کے بارے میں بات کرتے ہوئے احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔











