اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان اورپولینڈکے درمیان دوطرفہ تعاون کو کثیرالجہتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پولینڈ کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی اپنے دوستانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے یہ بات پولینڈ کے وزیر، کونسل آف منسٹرز کے رکن اور خصوصی خدمات کے کوآرڈینیٹر توماش سیئمونیئک سے ایوان صدر میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ملاقات کے دوران صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان موجود دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک اور ان کے عوام کے باہمی مفاد کے لیے ایک کثیرالجہتی شراکت داری میں تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
صدر مملکت نے حالیہ امریکہ۔ایران بحران کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں کو تسلیم کرنے پر پولینڈ کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے 1991ء کے بعد پولینڈ کی شاندار معاشی ترقی کو سراہا جس کے نتیجے میں پولینڈ کی معیشت ایک ٹریلین ڈالر کی سطح تک پہنچی۔ انہوں نے اس تاریخی دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کاروباری برادریوں کے درمیان روابط، عوامی سطح پر تبادلوں اور اعلیٰ قیادت کے باقاعدہ روابط بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
صدر مملکت نے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس پروگرام کے حوالے سے پاکستان کے لیے پولینڈ کی حمایت کو سراہا اور اعتماد ظاہر کیا کہ دونوں ممالک علاقائی اور کثیرالجہتی فورمز پر اپنے موجودہ باہمی تعاون اور روابط کو مزید مضبوط بنائیں گے۔توماش سیئمونیئک نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ بالخصوص سیاسی، اقتصادی اور عوامی سطح پر روابط بڑھا کر دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پولینڈ کی خواہش کا اظہار کیا۔
انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری کے لیے پولینڈ کے صدر اور وزیراعظم کی جانب سے نیک خواہشات اور تہنیتی جذبات بھی پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ پولینڈ اور پاکستان کے درمیان مضبوط اور دیرینہ تعلقات ہیں جن میں دفاعی شعبے میں تعاون بھی شامل ہے، خصوصاً پولینڈ کی فضائیہ کے پائلٹس اور تکنیکی ماہرین کی خدمات قابل ذکر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولینڈ پاکستان کے ساتھ سکیورٹی، امیگریشن اور انسداد دہشت گردی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے اور پاکستان کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔صدر مملکت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسلام آباد کی ایک شاہراہ کا نام ایئر کموڈور ولادیسلاویوزف ماریان تورووچ کے نام پر رکھا جا رہا ہے،جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران پولینڈ کی فضائیہ اور بعد ازاں رائل ایئر فورس میں خدمات انجام دیں۔ وہ 1948 میں پاکستانی حکام کی دعوت پر پولینڈ کے تقریباً 30 دیگر پائلٹس، انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کے ہمراہ پاکستان آئے اور پاکستان ایئر فورس کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ملاقات میں پولینڈ کی جانب سے پاکستان میں پولینڈ کے سفیر میکائیل پیسارسکی، ملٹری کائونٹر انٹیلی جنس سروس کے سربراہ جنرل یاروسواف ستروژک، فارن انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈپٹی سربراہ کرنل والڈیمار مولارچک اور وزیراعظم کے دفتر کے نیشنل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کرنل میچیسواف ماتیسیاک شریک ہوئے۔پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سابق وفاقی وزیر سید نوید قمر ملاقات میں موجود تھے۔











