صوفیائے کرام کی تعلیمات امن، محبت اور اتحاد کی ضمانت ہیں، ڈاکٹر احسان بھٹہ

4

لاہور، 15 اکتوبر ( اے پی پی ):  سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف و مذہبی امور پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا ہے کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات اور منبر و محراب کا مؤثر کردار معاشرے میں امن، محبت، مذہبی ہم آہنگی اور اتحادِ امت کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ علماء و مشائخ اپنی دینی و سماجی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں ادا کرتے ہوئے پیغامِ پاکستان، استحکامِ پاکستان، رواداری اور خدمتِ انسانیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب کے زیراہتمام ایوانِ اوقاف لاہور میں ’’منبر و محراب کا کردار اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار اور جامعہ ہجویریہ، حضرت میاں میر کمپلیکس لاہور میں تصوف سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ایوانِ اوقاف لاہور میں منعقدہ سیمینار کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر احسان بھٹہ تھے۔ تقریب کا آغاز قاری محمد احمد کی تلاوتِ قرآنِ پاک اور حافظ عمر بن عبدالعزیز کی نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ سیمینار کا مقصد مذہبی ہم آہنگی، اتحاد بین المسلمین، استحکامِ پاکستان اور پیغامِ پاکستان کے فروغ کے لیے علماء و مشائخ کے کردار کو اجاگر کرنا تھا۔ اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علماء اور مشائخ نے شرکت کی اور معاشرے میں امن، برداشت، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے فروغ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا کہ منبر و محراب معاشرے کی فکری و اخلاقی رہنمائی کے اہم مراکز ہیں، جہاں سے محبت، اخوت، اعتدال، رواداری اور احترامِ انسانیت کا پیغام عام کیا جا سکتا ہے۔ علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تعلیمات اور خطابات کے ذریعے لوگوں میں اتحاد و اتفاق کو فروغ دیں اور اختلافات کو باہمی احترام اور مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی ترغیب دیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ پاکستان کے استحکام، معاشرتی امن اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں۔

سیمینار سے چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی و خطیب بادشاہی مسجد مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد، چیئرمین قرآن بورڈ پنجاب صاحبزادہ حافظ زبیر حسن اشرفی، مرکزی رہنما مجلس علماء پاکستان مولانا احسان اللہ تبسم، رہنما پاکستان علماء کونسل لاہور مولانا محمد اسلم صدیقی، چیئرمین متحدہ علماء بورڈ پنجاب و ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان مفتی انتخاب احمد نوری، مرکزی رہنما جماعت اہلسنت پاکستان مولانا قاضی عبدالغفار قادری، سجادہ نشین چورہ شریف راولپنڈی پیر سید سعادت علی شاہ، خطیب جامع مسجد حضرت علی ہجویری لاہور علامہ مختیار احمد ندیم، چیئرمین اسلامی جمہوری اتحاد پاکستان علامہ زبیر احمد ظہیر، مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے علامہ سلمان شاکر، سربراہ ادارہ منہاج الحسین لاہور علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر اور پرنسپل جامعۃ الواعظین لاہور علامہ محمد رشید ترابی سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے علماء نے خطاب کیا۔ ڈائریکٹر جنرل اوقاف پنجاب حافظ انیس الرحمن بھی تقریب میں موجود تھے۔

بعد ازاں ڈاکٹر احسان بھٹہ نے جامعہ ہجویریہ، حضرت میاں میر کمپلیکس لاہور میں منعقدہ تصوف سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر میں اسلام کی ترویج و اشاعت اور اسلامی تہذیب و اقدار کے استحکام میں اولیائے کرام نے غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ صوفیائے کرام نے اپنے پاکیزہ کردار، حسنِ اخلاق، رواداری، عاجزی اور بے لوث خدمتِ خلق کے ذریعے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو اجاگر کیا اور سیرتِ طیبہ ﷺ کی عملی تصویر پیش کی۔ ان کی جدوجہد نے لاکھوں انسانوں کے دلوں میں اسلام کی محبت پیدا کی اور اس خطے میں دینی و روحانی شعور کی مضبوط بنیادیں استوار کیں، جن کے اثرات آج بھی نمایاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات محض روحانی وابستگی تک محدود نہیں بلکہ انسانیت سے محبت، اخوت، تحمل، برداشت، ایثار اور احترامِ آدمیت کا جامع پیغام رکھتی ہیں۔ موجودہ دور میں ان تعلیمات کو عملی زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے سے نفرت اور انتشار کی حوصلہ شکنی ہو، اخلاقی اقدار مضبوط ہوں اور امن و رواداری کی فضا کو فروغ حاصل ہو۔

ڈائریکٹر جنرل اوقاف پنجاب حافظ انیس الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ نے علمِ دین، معرفتِ الٰہی، اصلاحِ باطن اور تزکیۂ نفس کے ذریعے لوگوں کی فکری و روحانی رہنمائی فرمائی۔ آپؒ کی تعلیمات نے محبت، اخلاص، عاجزی، ایثار اور خدمتِ انسانیت جیسے اوصاف کو فروغ دیا اور معاشرے میں اعتدال، اخلاقی پاکیزگی اور دینی شعور کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کیا۔ آپؒ کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’کشف المحجوب‘‘ تصوف و معرفت کا ایک گراں قدر علمی سرمایہ ہے، جو صدیوں سے اہلِ علم، مشائخ اور طالبانِ حق کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔

سیمینار سے چیئرمین متحدہ علماء بورڈ پنجاب و ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان مفتی انتخاب احمد نوری، شیخ الحدیث جامعہ ہجویریہ داتا دربار مفتی محمد صدیق ہزاروی اور معروف مذہبی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد جامی سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کا آستانہ آج بھی عقیدت مندوں کے لیے مرکزِ فیض و روحانیت اور علم و معرفت کا روشن استعارہ ہے۔ یہاں سے وابستہ روحانی روایات انسانوں کو اخوت، محبت، تحمل، باہمی احترام اور خدمتِ خلق کا درس دیتی ہیں۔

مقررین نے کہا کہ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کی تعلیمات کو محض عقیدت و احترام تک محدود رکھنے کے بجائے عملی زندگی کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر معاشرے میں اخلاقی اقدار کو تقویت دی جا سکتی ہے، نفرت و انتشار کی حوصلہ شکنی کی جا سکتی ہے اور امن، رواداری و باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کی علمی و روحانی میراث موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے، جس سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ایک پُرامن اور بااخلاق معاشرے کی تشکیل میں مدد مل سکتی ہے۔

تصوف سیمینار میں ایگزیکٹو آفیسر مشتاق احمد، پرنسپل جامعہ ہجویریہ ڈاکٹر ریاض احمد، اساتذہ کرام مولانا عرفان اللہ اشرفی، ڈاکٹر غلام مصطفی انجم، ڈاکٹر جلیل احمد قادری اور مدرسے کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ سیمینارز میں علماء و مشائخ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات، مذہبی رواداری، اتحادِ امت اور خدمتِ انسانیت کے پیغام کو عام کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔