غربت کا خاتمہ محض معاشی ضرورت نہیں بلکہ انسانی وقار، مساوی مواقع اور سماجی انصاف کا تقاضا ہے: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی

3

اسلام آباد، 14 اکتوبر (اے پی پی ): چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ غربت کے خاتمے کے لیے محض فوری امداد کافی نہیں، بلکہ پائیدار معاشی مواقع کی فراہمی، سماجی انصاف کے فروغ اور عوام کو باوقار اور خودمختار زندگی گزارنے کے قابل بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں ’’جامع اور مستحکم معاشی خودمختاری اور ترقی—غربت سے خوشحالی تک‘‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی سیشن سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جامع معاشی ترقی کے لیے سماجی تحفظ، ہنرمندی کے فروغ، معاشی خودمختاری اور پائیدار ذرائع معاش کو یکجا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق کانفرنس میں منظور کردہ اعلامیہ سب کے لیے باوقار اور پائیدار خوشحالی کے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ کا حوالہ دیتے ہوئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے آغاز کو اجاگر کیا، جو آج بھی لاکھوں مستحق خاندانوں کے لیے ایک اہم سماجی تحفظ کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے تاریخی اٹھارہویں آئینی ترمیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار قومی ترقی کے لیے مضبوط ادارے، مؤثر سماجی تحفظ اور معاشی خودمختاری کے مواقع ناگزیر ہیں۔ انہوں نے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ   کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ کمیونٹی کی سطح پر ترقی، بلا سود مالی سہولیات اور بالخصوص خواتین اور محروم طبقات کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے پالیسی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سماجی تحفظ کو ہنرمندی، پیداواری اثاثوں، منڈیوں تک رسائی اور باعزت روزگار کے مواقع سے منسلک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو معاشی ترقی کے عمل میں مرکزی حیثیت دینا اور نوجوانوں کو ضروری مہارتوں اور وسائل سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں اور معاشی بحرانوں سے متاثرہ کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے حکومت، پارلیمان، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی اور مقامی برادریوں کے درمیان مؤثر تعاون پر بھی زور دیا۔

نیلسن منڈیلا کا حوالہ دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ’’غربت پر قابو پانا خیرات کا عمل نہیں بلکہ انصاف کا تقاضا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے کا اصل مقصد لوگوں کو محض اس کے اثرات برداشت کرنے میں مدد دینا نہیں، بلکہ انہیں وقار، مواقع اور معاشی خودمختاری کے ذریعے مستقل طور پر غربت سے نکالنا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایوانِ وفاق کی حیثیت سے سینیٹ آف پاکستان جامع ترقی، سماجی انصاف اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس کی سفارشات مستقبل کی پالیسی سازی اور پارلیمانی اقدامات میں معاون ثابت ہوں گی۔

اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے دُخترانِ پاکستان ایکسیلینس ایوارڈز حاصل کرنے والی خواتین کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا نہ صرف انصاف کا تقاضا بلکہ پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ، وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ، متعلقہ وفاقی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، بین الاقوامی تنظیموں اور تمام شرکاء کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب اس کے اعلامیے کو عملی اقدامات میں تبدیل کرکے عوام کی زندگیوں میں واضح اور قابلِ پیمائش بہتری لائی جائے۔اس تقریب میں خواتین پارلیمنٹیرینز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ چیئرمین سینٹ نے انہیں شیلڈز بھی پیش کیں ۔