اسلام آباد، 28 اکتوبر ( اے پی پی): وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان نیشنل کلین ایئر کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فضائی آلودگی اور اسموگ انسانی سرگرمیوں اور پالیسی فیصلوں کا نتیجہ ہے جس سے غریب اور کمزور طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ صاحبِ استطاعت افراد ایئر پیوریفائرز سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
مصدق ملک نے کہا کہ ریڑھی بانوں، کسانوں، کھلے ماحول میں کام کرنے والے محنت کشوں اور اسکول جانے والے بچوں کو اس کا براہِ راست سامنا کرنا پڑتا ہے، اور اس آلودگی کے باعث ملک کو جی ڈی پی کے 6.5 فیصد کے مساوی معاشی نقصان کا سامنا ہے جس میں علاج معالجے کے اخراجات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق یہ بچوں کے پھیپھڑوں کی نشوونما کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ اس بحران کو قدرتی آفت کے بجائے پالیسی کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے چین اور شاہراہ قراقرم کی تعمیر کی مثال دی کہ عزم اور ٹیکنالوجی سے مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے، اور اسی عزم کے تحت حکومت نے محدود وسائل کے باوجود کلین ایئر اسٹارٹ اپس کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بورڈ کی منظوری اگلے روز متوقع ہے اور اس میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، یونیسیف اور جی آئی زیڈ جیسے ترقیاتی شراکت داروں کا تعاون بھی حاصل ہے تاکہ انجینئرنگ کے حل، مؤثر پالیسیوں اور مالی وسائل کے ذریعے ملک میں فضائی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔











