راولپنڈی، 2 اکتوبر )اے پی پی): فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت جی ایچ کیو راولپنڈی میں 277 ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔
فورم نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول سوسائٹی کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ان کی عظیم قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔فورم نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور اعلیٰ درجے کی تیاری برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
فورم نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ خود دفاع اور ہدفی کارروائی کی توثیق کی اور واضح کیا کہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے لیے صرف طالبان کی خود فریبی میں مبتلا قیادت ذمہ دار ہے جو بھارت کی جانب سے دہشت گردی کو سہولت فراہم کر رہی ہے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوگی۔
فورم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انٹیلیجنس بنیاد پر کامیاب انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کو سراہا، تاہم ان عسکری کوششوں کو غیر عسکری اقدامات سے مکمل کرنے پر زور دیا جن میں نچلی سطح پر عوام دوست طرزِ حکمرانی، عوام سے اسٹریٹجک رابطہ، مفاد پرست عناصر کی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ اور نیشنل ایکشن پلان اور ویژن عزمِ استحکام کے مطابق پولیس کی استعداد کار میں اضافہ شامل ہے۔
فورم نے داخلی استحکام کی اہمیت کو اجاگر کیا اور عزم ظاہر کیا کہ کسی بھی بہانے سے انتشار پھیلانے یا 9 مئی جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوئی بھی کوشش سے بلا امتیاز اور بلا ہچکچاہٹ فیصلہ کن قوت اور قانون کی حکمرانی کے ذریعے نمٹا جائے گا۔فورم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کیا اور اسے دیرینہ اسٹریٹجک اور اجتماعی دفاعی تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا۔
فورم نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی شدید مذمت کی، مملکت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حمایت جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔
اختتامی کلمات میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے فارمیشنز کی آپریشنل تیاریوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کمانڈرز کو ہدایت کی کہ انٹیلیجنس بنیاد پر آپریشنز کو مزید مضبوط بنایا جائے اور جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور ملٹی ڈومین انٹیگریشن کے ذریعے جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ مسلح افواج قوم کی غیر متزلزل حمایت سے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔











