وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی وفد کا دورہ ،امریکہ انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہا، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے تحت سٹرٹیجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس جلد ریاض میں ہو گا ،سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی میڈیا بریفنگ

2

اسلام آباد،2اکتوبر  (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی وفد کا دورہ امریکہ انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہا، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب اور کئی عالمی رہنمائوں سے ملاقاتوں کے دوران ایران۔امریکہ جنگ میں ثالثی کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں، آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش، تنازعہ کشمیر، مسئلہ فلسطین، حالیہ پاک۔بھارت جنگ اور سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کے حوالے سے پاکستان کا جامع اور مدلل موقف پیش کیا، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے تحت سٹرٹیجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس جلد ریاض میں ہو گا۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ 21 سے 26 ستمبر کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کا موقع ملا، ہر سال کی طرح یہ ایک ایسا موقع تھا جس میں عالمی رہنمائوں کے ساتھ مفید ملاقاتیں ہوئیں، عالمی فورم میں شرکت کا موقع ملا، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی وفد کی قیادت کی۔

 انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کھلی بحث کے دوران اہم عالمی رہنمائوں بشمول اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خطاب کئے، اس موقع پر مختلف ممالک کے سربراہوں اور رہنمائوں کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران ہم نے ملکی مفاد، سفارتکاری اور دوطرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جس کے نمایاں نتائج سامنے آئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کا علاقائی اور عالمی امور اور چیلنجز پر نقطہ نظر جامع اور موثر انداز میں پیش کیا، اس موقع پر انہوں نے مسئلہ فلسطین اور تنازعہ جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا دوٹوک موقف اجاگر کیا، وزیراعظم نے حالیہ پاک۔بھارت جنگ اور سندھ طاس معاہدہ سے متعلق پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا، ایران۔امریکہ جنگ کے دوران امن اور مذاکرات کے فروغ کو بھی اجاگر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس رواں سال 31 دسمبر تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منتخب رکنیت ہے،  2025ء میں پاکستان کو یہ صدارت ملی اور مجھے پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملا، تین روزہ تقریبات کے دوران کثیر جہتی اور تنازعات کے پرامن حل پر توجہ مرکوز کی گئی، اس حوالے سے پاکستان کو بہت سراہا گیا، اقوام متحدہ کے کثیر الجہتی اور اقوام متحدہ میں اصلاحات کیلئے ہم نے بھرپور کردار ادا کیا ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 12 سال بعد کثیر الجہتی اور تنازعات کے پرامن حل کے حوالے سے ہماری قرارداد متفقہ طور پر پہلی منظور کی گئی، یہ عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کے اعتراف کا ثبوت ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر کے دوران ایران۔امریکہ جنگ کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کیا جس کے تحت 47 سال بعد ایران اور امریکہ کو ایک میز پر بٹھایا گیا، امریکہ اور ایران کے درمیان 10 اور 11 اپریل کو اسلام آباد میں 21 گھنٹے مذاکرات ہوئے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کے توانائی کی رسد اور عوام پر منفی اثرات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا جس کے نتیجہ میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، حکومت نے مالی مشکلات کے باوجود اس تناظر میں دو اور تین پہیوں والی اور 800 سی سی تک چار پہیوں والی گاڑیوں کو فیول ریلیف دیا، کفایت شعاری اور ایندھن پر ریلیف دینے کیلئے کئی اجلاس منعقد کئے۔

 انہوں نے کہا کہ لاکھوں لوگ اس سکیم سے مستفید ہو رہے ہیں، یہ وزیراعظم کا دلیرانہ اقدام تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں افغانستان سے دہشت گردی کا سامنا ہے جس کے خطرات اور نقصانات کے حوالے سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کھل کر دنیا کے سامنے رکھا، انہوں نے سعودی عرب کی حالیہ صورتحال کے حوالے سے خطرات اور حملوں کا معاملہ بھی اپنی تقریر میں اٹھایا، بالخصوص ایران۔امریکہ جنگ کے دوران پاکستان کی کوششوں بالخصوص چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزارت خارجہ کو سراہا، یہ ان کی جامع، مدلل اور کامیاب تقریر تھی جسے دنیا بھر میں دیکھا گیا اور ان کی تقریر کے دوران تالیاں بجائی گئیں اور سراہا گیا۔

 انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وفد کے ہمراہ ترقی کے حق کے حوالے سے انتہائی اہم فورم میں شرکت کی اور اس میں پاکستان کا نقطہ نظر اور موقف پیش کیا، وزیراعظم نے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹیو فورم کے موقع پر اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں، یہ چین کا انیشیٹیو ہے، اس میں گلوبل سولائزیشن انیشیٹیو، گلوبل سکیورٹی انیشیٹیو، گلوبل گورننس انیشیٹیو اور  گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹیو شامل ہیں۔ چین کے نائب صدر نے بھی اس میں شرکت کی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف تین مقررین میں شامل تھے۔

 انہوں نے پاکستان کی بہترین نمائندگی کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سربراہان مملکت کے اعزاز میں ضیافت میں شرکت کی، اس موقع پر انہوں نے کئی ممالک کے سربراہان سے مثبت اور نتیجہ خیز دوطرفہ ملاقاتیں کیں، وائٹ ہائوس نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کی تصاویر جاری کی ہیں، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے وفد کے ہمراہ ملاقات کی، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ہماری دورہ پاکستان کی دعوت قبول کی ہوئی ہے، وہ پاکستان کے بہت بڑے سپورٹر ہیں، پاکستان میں قدرتی آفات کے دوران انہوں نے اہم کردار ادا کیا، ان کے عہدے کی مدت 31 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے، امید ہے کہ وہ اس سے پہلے اور جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے کویتی ہم منصب، ایرانی صدر، شام کے صدر، بنگلہ دیشی وزیراعظم سمیت دیگر ممالک کے سربراہان  کے ساتھ وفد کے ہمراہ مثبت اور مفید ملاقاتیں کیں۔ ایران۔امریکہ جنگ کے دوران پاکستان نے جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا، لبنان کا علاقہ بھی اس جنگ بندی کا حصہ تھا، اس حوالے سے لبنانی وزیراعظم سے ملاقات بہت اہم تھی جس میں انہوں نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی حمایت کو سراہا۔ وزیراعظم نے یورپی کمیشن اور یورپی کونسل کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کیں اور جی ایس پی پلس سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے ملاقات انتہائی مفید رہی، انہوں نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر پاکستان کو سراہا، پاکستان امریکن بزنس لیڈر کے وفد نے بھی ان سے ملاقات کی، انہوں نے بل گیٹس اور پاکستانی نوجوانوں کے وفد سے ملاقات کی۔

 سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے فلسطین سے متعلق او آئی سی کی چھ ملکی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی، مصر کی میزبانی میں غزہ سے متعلق آٹھ عرب اسلامی ممالک کے گروپ کے اجلاس میں شرکت کی، ریجنل فور (آر۔4) گروپ کے اجلاس میں شرکت کا موقع ملا، جموں و کشمیر سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ اور افغانستان سے متعلق او آئی سی کے رابطہ گروپ کے اجلاسوں میں بھی شرکت کی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک کیلئے مصنوعی ذہانت سے متعلق اجلاس میں شرکت کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا مکہ معاہدہ کے تحت اجلاس منعقد ہوا، مکہ معاہدہ کے تحت سٹرٹیجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی میں ہر ملک سے تین رکن ہیں جس میں تینوں ممالک کے وزراء خارجہ، وزراء دفاع اور چیف آف آرمی سٹاف شامل ہیں، 7 اگست کو مکہ معاہدہ پر دستخط کئے گئے تھے، 31 اگست کو اس کا پہلا اجلاس استنبول میں ہوا، تینوں ممالک کے آرمی چیفس کا خصوصی اجلاس 25 ستمبر کو ریاض میں منعقد ہوا، اس سے پہلے تینوں وزراء خارجہ کی ملاقات نیویارک میں ہوئی کیونکہ حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ ہوا، پوری سٹرٹیجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس جلد ریاض میں ہو گا جس کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے، مکہ معاہدہ کے تحت موجودہ بالخصوص سعودی عرب کے حوالے سے صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور مستقبل کی حکمت عملی وضع کی جائے گی، اقوام متحدہ کے وبائی، اس کے اثرات اور اس سے بچائو کے حوالے سے کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی، گروپ 77 وزراء خارجہ کے اجلاس میں شرکت کی، اس موقع پر ای سی او کی وزراء خارجہ کونسل کے اجلاس کی صدارت کی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل ممبران کے وزارتی اجلاس میں شرکت کی، مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے فلسطین کے دو ریاستی حل کے حوالے سے اجلاس میں شرکت کی اور پاکستان کا موقف اجاگر کیا، مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق عرب لیگ اور اسلامی ممالک کے اجلاس میں شرکت کی۔

 اس موقع پر ایران، کویت، آسٹریا، یونان، بلغاریہ سمیت 28 ممالک کے وزراء خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ فلسطین کے مستقل مندوب سے ملاقات ہوئی، فلسطینی صدر محمود عباس کو مسلسل دوسرے سال ویزا نہیں دیا گیا اور انہوں نے اجلاس میں شرکت نہیں کی، خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس دورہ کے دوران تین معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔

 ایک سوال کے جواب میں نائب وزیراعظم نے کہا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے اپنی جان بھی قربان کرنے کیلئے تیار ہیں، پاکستان نے ہمیشہ مشکل کی گھڑی میں اپنی ذمہ داری نبھائی ہے، سعودی عرب کے ساتھ دو معاہدے ہیں جن میں باہمی دفاعی معاہدہ اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ شامل ہیں۔ حالیہ پاک۔بھارت جنگ کے دوران پاکستان کی فتح پر پاکستانی قوم کی طرح ترکیہ اور آذربائیجان کے عوام نے بھی اظہار تشکر کیا۔