کوئٹہ، 8 اکتوبر (اے پی پی ) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ نوجوانوں اور ریاست کے درمیان موجود خلیج کو تعلیم، ہنرمندی، روزگار، میرٹ اور بامعنی مکالمے کے ذریعے ختم کیا جائے گا۔ حکومت نوجوانوں کو غیر قانونی سرگرمیوں کے بجائے قانونی معیشت کا حصہ بننے کے لیے مواقع، وسائل اور رہنمائی فراہم کر رہی ہے حکومت کا مقصد صرف نوجوانوں کو تربیت دے کر سرٹیفکیٹ دینا نہیں بلکہ انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے، حکومت بلوچستان ہنر سیکھنے والے نوجوانوں کو سازگار ماحول، بلا سود قرضے، کاروباری معاونت اور مسلسل رہنمائی فراہم کرے گی تاکہ وہ اپنے علاقوں میں یا ملک کے کسی بھی حصے میں باعزت کاروبار شروع کرسکیں ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں محکمہ صنعت و تجارت حکومت بلوچستان اور بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام حکومت بلوچستان کے فنڈڈ ریزیلینس، انٹیگریشن اینڈ سوشیو اکنامک ایمپاورمنٹ پروگرام کے تحت ضلع کیچ، گوادر، پنجگور اور خاران سے تعلق رکھنے والے فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے تربیت یافتہ گریجویٹس میں اسناد تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیر اعلیٰ نے تقریب میں تربیت مکمل کرنے والی خواتین اور طالبات میں اسناد بھی تقسیم کیں ۔ اس موقع پر صوبائی وزراء، مشیران، پارلیمانی سیکرٹریز، اراکین صوبائی اسمبلی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، بی آر ایس پی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر طاہر رشید اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آج کی تقریب دراصل ان نوجوان خواتین کی حوصلہ افزائی اور اعتراف کا موقع ہے جنہوں نے اپنے گھروں سے نکل کر ہنر حاصل کیا اور تربیت مکمل کرکے ایک نئے سفر کا آغاز کیا ہے۔ ان کے لیے یہ ایک اہم لمحہ ہے کیونکہ جب موجودہ حکومت نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو ایک بڑا چیلنج حکومت اور نوجوانوں کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، کابینہ اور صوبائی اسمبلی کے اراکین نے محسوس کیا کہ نوجوان نسل اور ریاست کے درمیان ایک خلا پیدا ہوچکا ہے، خاص طور پر ریاست کے ساتھ نوجوانوں کی وابستگی میں کمی ایک اہم چیلنج تھی۔ تشدد کو وہ بنیادی چیلنج نہیں سمجھتے، اصل چیلنج نوجوانوں کو ریاست پاکستان کے ساتھ دوبارہ جوڑنا ہے اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں ۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کو اس مقصد کے لیے اپنے ساتھ شامل کیا تاکہ ریاست، حکومت اور نوجوانوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا جاسکے اور پروگرام کے شفاف نفاذ کو یقینی بنایا جاسکے۔ اگر حکومت براہ راست اس نوعیت کے منصوبے شروع کرتی تو سرکاری طریقہ کار کے باعث تاخیر اور دیگر انتظامی مسائل پیدا ہوسکتے تھے، اس لیے بی آر ایس پی جیسے ادارے کے ذریعے نوجوانوں کو تربیت، رہنمائی اور عملی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پروگرام صرف تربیت اور سرٹیفکیٹ تک محدود نہیں بلکہ نوجوانوں کو ہنر کے بعد کاروبار شروع کرنے کے قابل بنانا اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہے۔ بی آر ایس پی حکومت بلوچستان کے تعاون سے تربیت مکمل کرنے والوں کی مسلسل رہنمائی کرے گا، نجی شعبے کی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں کاروباری سرگرمیوں کے لیے تیار کیا جائے گا اور حکومت کئی سال تک ان کی معاونت جاری رکھے گی تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی کوشش ہے کہ تربیت یافتہ نوجوان خواتین اور مرد نہ صرف خود روزگار حاصل کریں بلکہ مستقبل میں اپنے خاندانوں اور دیگر نوجوانوں کو بھی ساتھ لے کر آگے بڑھیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن تربیت مکمل کرنے والوں کے سفر کا اختتام نہیں بلکہ نئے سفر کا آغاز ہے، حکومت بلوچستان انہیں اس مقام تک پہنچانے کے لیے ان کا ہاتھ تھامے رکھے گی جہاں وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں ۔










