اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بحال کیے گئے پاکستان چین فرینڈشپ ہسپتال کا افتتاح کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی ہے کہ ملک بھر سے آنے والے مریضوں کو معیاری طبی سہولیات مفت فراہم کی جائیں،عوامی وسائل انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال ہونے چاہئیں، نہ کہ ادارہ جاتی غفلت کے باعث ضائع ہونے دیئے جائیں۔
وزیراعظم نے ہسپتال کی نو تعمیر شدہ سہولتوں کا دورہ کیا، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال سے بریفنگ لی اور مریضوں سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلائے جانے والے طبی اداروں کے ذریعے مفت علاج کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔چین کی جانب سے کووڈ 19 کی وباء کے دوران تحفے میں دیئے گئے آئسولیشن ہسپتال اینڈ انفیکشس ٹریٹمنٹ سینٹر نے وباء کے خاتمے کے بعد کام کرنا بند کر دیا تھا اور یہ کئی سال تک بند رہا۔ پاکستان چین فرینڈشپ ہسپتال کے نئے نام سے اس کی بحالی کا مقصد ایک اہم قومی اثاثے کو دوبارہ فعال کرنا اور مریضوں کو جدید طبی سہولتیں فراہم کرنا ہے، خصوصاً ایسے افراد کو جو مہنگے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔
جمعرات کو افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ہسپتال کی طویل عرصے تک بندش پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کے حوالے سے غفلت کی ایک افسوسناک مثال قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اخبار میں ہسپتال کی صورت حال کے بارے میں خبر پڑھنے کے بعد انہوں نے فوری نوٹس لیا اور وزیر صحت کو ہدایت کی کہ ہسپتال کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہسپتال چین کی حکومت اور عوام کی جانب سے ایک فراخدلانہ تحفہ تھا جو چینی صدر شی جن پنگ کے بین الاقوامی تعاون اور انسانی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ ذمہ داری کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے ہسپتال کی کئی سال تک بندش پر چین کے سفیر اور عوام سے معذرت بھی کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت علاج معالجے کے 100 فیصد اخراجات برداشت کرے گی جبکہ انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت ہسپتال کا انتظام چلائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ ورک کے زیر انتظام ہسپتالوں کے حوالے سے ان کے تجربے نے انہیں قائل کیا ہے کہ سرکاری طبی اداروں کا انتظام مستند اور قابل اداروں کے سپرد کرنے سے خدمات کی فراہمی، کارکردگی اور جوابدہی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔وزیراعظم نے وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال اور ہسپتال کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اسے ایک مثالی ادارہ بنایا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایسے افراد کو علاج فراہم کرنا جو اس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، عوامی خدمت کی بہترین صورتوں میں سے ایک ہے۔انہوں نے طبی خدمات کے معیار کا جائزہ لینے اور جوابدہی یقینی بنانے کے لیے تیسرے فریق کے ذریعے کارکردگی کا آڈٹ کرانے کی بھی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہسپتال سرکاری شعبے کے دیگر اداروں کے لیے ایک معیار قائم کرے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور ان کی ٹیم کو عوامی فلاح و بہبود کے اس منصوبے کو ریکارڈ مدت میں تصور سے تکمیل تک پہنچانے اور سب کے لئے معیاری اور قابلِ رسائی صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے حکومتی مشن کو آگے بڑھانے پر سراہا۔وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم کی ذاتی کاوشوں اور مسلسل نگرانی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گہری دلچسپی اور عزم کے باعث مختصر مدت میں ہسپتال کی بحالی ممکن ہوئی۔
انہوں نے اسلام آباد میں طبی سہولتوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے قیام کے بعد اس کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور راولپنڈی سے بھی مریض علاج کے لیے یہاں آتے ہیں۔
وزیر صحت نے کہا کہ 182 بستروں پر مشتمل یہ ہسپتال بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے اور وفاقی دارالحکومت سمیت گردونواح کے علاقوں کے مریضوں کو ضروری طبی سہولتیں فراہم کرنے میں مدد دے گا۔انہوں نے شرکا کو بتایا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں 200 بستروں پر مشتمل کینسر ہسپتال بھی تیار کر لیا گیا ہے جس کے اگلے سال فعال ہونے کی توقع ہے۔
سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان کی جانب سے چین کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہسپتال کو ایک قیمتی تحفہ قرار دیا اور کہا کہ انہیں اسے دوبارہ فعال کرنے میں کردار ادا کرنے پر فخر ہے۔پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زی ڈونگ نے افتتاح کا خیرمقدم کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی توجہ کے نتیجے میں اس ہسپتال کو جنرل ہسپتال میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے ہسپتال کا نام پاکستان چین فرینڈشپ ہسپتال رکھنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ وزیراعظم کے چین کے لیے گہرے جذبات اور دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔چینی سفیر نے عوامی فلاح و بہبود کے دیگر شعبوں میں پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا جن میں پولیو کا خاتمہ، صحت کارڈ کے اقدامات میں توسیع اور نوجوانوں کی ترقی شامل ہیں۔
پاکستان کے معاشی اشاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے جیانگ زی ڈونگ نے زرمبادلہ کے ذخائر، برآمدات، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا ذکر کیا۔ انہوں نے دوسرے مرحلے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی چین کی خواہش کا اظہار کیا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان چین فرینڈشپ ہسپتال کامیابی سے کام کرے گا اور عوام کی خدمت جاری رکھتے ہوئے دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کو مزید مضبوط بنائے گا۔انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان نے ہسپتال کا انتظام ان کے ادارے کے سپرد کرنے پر وزیراعظم اور وزیر صحت کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے اس شراکت داری کو وفاقی دارالحکومت میں مفت طبی سہولتوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا ایک اہم موقع قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ نیٹ ورک پاکستان بھر میں 15 ہسپتال، بنیادی صحت کی 140 کلینکس، خون کے چار مراکز اور جسمانی بحالی کے چار مراکز چلا رہا ہے جہاں ہر ماہ تقریباً سات لاکھ مریضوں کو خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے ساتھ ان کے ادارے کی شراکت داری اس وقت شروع ہوئی تھی جب وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے اور حکومت نے معیاری طبی سہولتوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے بعض ہسپتالوں کا انتظام نیٹ ورک کے سپرد کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ نیٹ ورک کی سرگرمیوں میں نمایاں توسیع ہوئی ہے اور اس کا سالانہ بجٹ پہلے سال کے ایک ارب روپے سے بڑھ کر رواں سال 68 ارب روپے ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ترقی میں عوامی تعاون، عطیات، طبی عملے کی لگن اور مریضوں کی دعاؤں کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نیٹ ورک کے مجموعی بجٹ کا تقریباً 70 فیصد پاکستان کے اندر سے حاصل کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر باری نے کہا کہ ان کا ادارہ طویل عرصے سے وفاقی دارالحکومت میں اپنی خدمات کا دائرہ بڑھانے کا خواہاں تھا اور انہوں نے اس مقصد کو ممکن بنانے پر وزیراعظم اور وزیر صحت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اسلام آباد میں خون کا ایک مرکز قائم کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ شراکت داری مزید فروغ پائے گی اور ایک صحت مند پاکستان کی تعمیر میں کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے مالی مشکلات کو معیاری علاج کی راہ میں رکاوٹ بننے سے روکنے اور مریضوں کو بلاامتیاز طبی سہولتیں فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔پاکستان چین فرینڈشپ ہسپتال میں 182 بستروں کی گنجائش ہے جن میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) کے 50 بستر شامل ہیں۔ توقع ہے کہ یہ ہسپتال اسلام آباد، راولپنڈی، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے مریضوں کو طبی سہولتیں فراہم کرے گا۔نئے انتظام کے تحت حکومت مریضوں کے علاج کے اخراجات برداشت کرے گی، جبکہ انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک مؤثر انتظامی امور اور معیاری طبی خدمات یقینی بنانے کے لیے پیشہ ورانہ انتظام اور طبی مہارت فراہم کرے گا۔ہسپتال کا افتتاح چین کی جانب سے کووڈ 19 کی وباء کے دوران تحفے میں دی گئی ایک اہم طبی سہولت کی بحالی کی علامت ہے جس کے ذریعے طویل عرصے سے غیر فعال قومی اثاثے کو ضرورت مند مریضوں کے لیے مفت طبی سہولتوں کے ایک نئے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔











