لاہور، 12 اکتوبر (اے پی پی): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صنعتی مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے سوشل سیکیورٹی موبائل ہیلتھ پروگرام کا افتتاح کر دیا۔ پروگرام کے تحت 65 موبائل ہیلتھ یونٹس اور بائیکس کے ذریعے لاہور، قصور اور شیخوپورہ میں 46 لاکھ سے زائد صنعتی ورکرز اور ان کے اہل خانہ کو طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے موبائل ہسپتالوں، موبائل ڈینٹل ہسپتال اور طبی سہولیات سے آراستہ بائیکس کا معائنہ کیا اور ادویات و طبی آلات کے بارے میں بریفنگ لی۔ انہوں نے نواز شریف سوشل سیکیورٹی ہسپتال کی او پی ڈی اور رحمتہ للعالمین کارڈیک سینٹر کا دورہ بھی کیا، مریضوں کی عیادت کی اور ڈاکٹرز و عملے سے گفتگو کی۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ موبائل ہیلتھ پروگرام کے ذریعے پہلی مرتبہ مزدوروں کو کام کی جگہ اور ان کے اہل خانہ کو گھر کی دہلیز پر طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ فیکٹریوں، تجارتی اور صنعتی یونٹس میں جہاں بھی محنت کش موجود ہوں گے، وہاں موبائل ہیلتھ یونٹس طبی خدمات فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب سوشل سیکیورٹی کے 24 ہسپتالوں میں ایک کروڑ سے زائد صنعتی ورکرز اور ان کے اہل خانہ کو علاج اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ پی ای ایس ایس آئی کے تحت 250 میڈیکل آؤٹ لیٹس کے ذریعے بھی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ موبائل ہیلتھ سروسز سے بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہوگا اور ہسپتالوں پر دباؤ بھی کم ہوگا۔
بریفنگ کے مطابق موبائل ہسپتالوں میں ڈاکٹرز، لیبارٹری، ایکسرے، الٹراساؤنڈ اور دیگر تشخیصی سہولیات دستیاب ہوں گی، جبکہ موبائل ڈینٹل ہسپتال کے ذریعے دانتوں کا علاج بھی کیا جائے گا۔ موبائل یونٹس کو ڈیجیٹل ہب سے منسلک کرکے ان کی نقل و حرکت اور خدمات کی ریئل ٹائم نگرانی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق مارچ 2027 تک گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، فیصل آباد، سرگودھا، ساہیوال، ملتان، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، رحیم یار خان اور راولپنڈی میں بھی پروگرام شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ موبائل یونٹس ورکرز ویلفیئر سکولوں میں زیر تعلیم 54 ہزار بچوں میں دل کی بیماریوں کی تشخیص کے لیے بھی استعمال کیے جائیں گے۔











