وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر کی ملاقات

9

اسلام آباد، 20 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل خان اور سیکرٹری تجارت جواد پال بھی شریک تھے۔

جام کمال خان نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینا پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، جن سے استفادہ کرتے ہوئے باہمی اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔

ملاقات میں پاکستانی زرعی مصنوعات، بالخصوص آم اور کھجور کی امریکی منڈی تک رسائی کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سیکرٹری تجارت جواد پال نے پاکستانی آم کی برآمدات کے فروغ کے لیے امریکی معائنہ ٹیموں کے دوروں میں تیزی لانے کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی کھجور کو امریکی منڈی تک رسائی ملنے سے مقامی کاشتکاروں اور برآمدکنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ امریکی وفد نے پاکستانی زرعی مصنوعات کی مارکیٹ تک رسائی کے حوالے سے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطوں کو فروغ دینے کی یقین دہانی کرائی۔

ملاقات میں امریکہ سے کپاس اور سویابین کی درآمدات بڑھانے اور تجارتی مالی معاونت کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، فوڈ پروسیسنگ اور کولڈ چین کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نمایاں مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے زرعی اور صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور کراچی میں منعقد ہونے والی فوڈ ایگ 2026 نمائش میں شرکت کی ترغیب دی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بلوچستان میں کھجور، زیتون کے تیل اور دیگر زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات میں اضافہ اور مقامی صنعت کو فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

ملاقات کے دوران معدنیات، کان کنی، تکنیکی تعاون اور ہنرمند افرادی قوت کی ترقی کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ امریکی وفد نے پاکستان کے معدنیاتی شعبے میں سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔ جام کمال خان نے حب، بلوچستان کو صنعتی سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ اور خصوصی اقتصادی زونز کے لیے ایک اہم مقام قرار دیا۔

فریقین نے علاقائی تجارتی روابط اور افغانستان و وسط ایشیائی منڈیوں تک زمینی تجارتی راستوں کے ذریعے رسائی کو بہتر بنانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ سیکرٹری تجارت جواد پال نے کہا کہ مستحکم تجارتی راستے اور مؤثر لاجسٹکس برآمدات کے فروغ اور علاقائی تجارت کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر نے پاکستان کے ساتھ تجارت، زراعت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ دونوں فریقین نے باہمی تجارت کے فروغ، زرعی مصنوعات کی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے اور ادارہ جاتی روابط مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔