اسلا م آباد 16 ااکتوبر (اے پی پی ):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پائیدار قومی ترقی کے لیے دیانت داری، اخلاقیات، باہمی اعتماد اور اجتماعی ذمہ داری پر مبنی معاشرے کی تشکیل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کا معیار محض معاشی اعداد و شمار، سڑکوں، ڈیموں اور عمارتوں کی تعمیر نہیں بلکہ قوم کے اخلاقی کردار اور معاشرتی اقدار کی مضبوطی بھی ہے۔
اقدار پر مبنی معاشرے کے قیام، کردار سازی، باہمی اعتماد اور اجتماعی ذمہ داری کے فروغ کے حوالے سے منعقدہ گول میز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اڑان پاکستان کے ترقیاتی وژن میں دیانت داری، اخلاقیات اور مساوات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ مضبوط اخلاقی بنیادوں کے بغیر مثبت اور پائیدار تبدیلی ممکن نہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ بنیادی ڈھانچہ ترقی کا ظاہری ڈھانچہ ہے، جبکہ اخلاقی اقدار اس کی روح اور بنیاد ہیں۔ ہسپتالوں کی عمارتیں اور جدید طبی آلات اسی وقت حقیقی معنوں میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب ڈاکٹر اور نرسیں احساسِ ذمہ داری اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کی کامیابی کے لیے اساتذہ کی ذمہ داری، تربیت اور کردار سازی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ معاشرے میں تعلیم کا سلسلہ تو جاری ہے، لیکن تربیت اور اخلاقی کردار سازی کا پہلو کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رشوت، ملاوٹ اور حلال و حرام میں تمیز کا فقدان معاشرتی اقدار کے زوال کی علامات ہیں۔ ہمیں گھروں، تعلیمی اداروں، مساجد اور دیگر مذہبی مراکز کے ذریعے اخلاقی تربیت، اتحاد، برداشت اور عملی زندگی میں اچھے کردار کو فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے قومی وسائل کے دیانت دارانہ اور مؤثر استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہر شخص قومی وسائل کی حفاظت اسی طرح کرے جس طرح وہ اپنی ذاتی دولت کی کرتا ہے تو پاکستان کے ترقیاتی نتائج کئی گنا بہتر ہو سکتے ہیں۔ قومی وسائل کے درست استعمال اور بدعنوانی کے خاتمے سے ملک کی ترقی کے عمل میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
اجلاس کے دوران شرکاء کو اقدار پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لیے خوشحال پاکستان کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس مجوزہ خاکے میں شہری ذمہ داری اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کو بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے، جبکہ خاندانی نظام، تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ اور کام کی جگہوں پر اخلاقی اقدار کو عملی زندگی کا حصہ بنانے پر زور دیا گیا۔ اس ضمن میں آئینِ پاکستان، قومی نصاب اور پیغامِ پاکستان سمیت موجودہ قومی اقدامات سے بھی استفادہ کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
احسن اقبال نے کہا کہ اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے محض عارضی مہمات کافی نہیں بلکہ ایک منظم اور مستقل حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، تعلیمی اداروں، خاندانوں اور مذہبی مراکز کے اشتراک سے ملک بھر میں کردار سازی اور اخلاقی تربیت کے اقدامات آگے بڑھانے پر زور دیا اور اعلان کیا کہ اس مقصد کے لیے ایک مستقل ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا، جو اخلاقیات، کردار سازی اور شہری ذمہ داری کے فروغ کے لیے جامع حکمتِ عملی مرتب کرے گا۔











