پاکستان اور ڈنمارک کے مابین پولٹری سیکٹر میں اینٹی مائیکروبیل مزاحمت کے تدارک کے لیے معاہدہ طے پا گیا

12

اسلام آباد، 28 اکتوبر (اے پی پی): پاکستان اور ڈنمارک کے عالمی ادارے آئی کارس  کے درمیان پولٹری سیکٹر میں اینٹی مائیکروبیل مزاحمت کی روک تھام کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو گئے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے معاہدے کی ورچوئل تقریب میں شرکت کی۔

 اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ معاہدے کے تحت پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کے متبادل طریقوں پر تین سالہ تحقیقی منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، جس کے لیے آئی کارس 5 لاکھ 40 ہزار 855 امریکی ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرے گا۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ اینٹی مائیکروبیل مزاحمت انسانی و حیوانی صحت اور قومی غذائی تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے، جس کے پیش نظر پولٹری اور لائیو اسٹاک سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کا ذمہ دارانہ استعمال ناگزیر ہو گیا ہے۔

 انہوں نے زور دیا کہ اینٹی مائیکروبیل مزاحمت کے تدارک کے لیے سائنسی شواہد پر مبنی اقدامات ضروری ہیں اور سائنسی تحقیق کے نتائج کا براہِ راست فائدہ عام کسانوں اور پولٹری فارمرز تک پہنچنا چاہیے۔وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ اس تین سالہ منصوبے کے تحت 30 پولٹری فارمز پر اینٹی بائیوٹکس کے متبادل کے طور پر نامیاتی تیزابوں (Organic Acids) کی افادیت جانچی جائے گی، جبکہ منصوبے کا بنیادی ہدف پولٹری کی صحت اور پیداوار کو متاثر کیے بغیر اینٹی بائیوٹکس کے ذریعے علاج میں کم از کم 20 فیصد کمی لانا ہے۔

انہوں نے پاکستان میں غذائی تحفظ اور لائیو اسٹاک کی پائیدار ترقی کے لیے بین الاقوامی تحقیقی تعاون کو اہم قرار دیتے ہوئے اینٹی مائیکروبیل مزاحمت کے تدارک میں تعاون فراہم کرنے پر آئی کارس اور حکومتِ ڈنمارک کا شکریہ بھی ادا کیا۔