اقوام متحدہ، 30 اکتوبر ( اے پی پی) : پاکستان نے بین الاقوامی قانون، تنازعات کے پُرامن حل اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کے استحکام میں عالمی عدالتِ انصاف کے مرکزی کردار کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی عدالتِ انصاف کی رپورٹ سے متعلق ایجنڈا آئٹم 72 پر بحث کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری ذوالفقار علی نے عالمی عدالتِ انصاف کے صدر، جج یوجی ایواساوا کی جانب سے عدالت کی سالانہ رپورٹ اور سیکریٹری جنرل کی متعلقہ رپورٹ پیش کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
1945ء میں اقوام متحدہ کے بنیادی عدالتی ادارے کے طور پر عالمی عدالتِ انصاف کے قیام کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ بین الریاستی تعلقات کی بنیاد طاقت کے استعمال، جبر یا دھمکی کے بجائے بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی قانون، عالمی معاہدوں اور انسانی حقوق کو نظرانداز کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان سے عالمی امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہیں اور عالمی نظام کی بنیادی اساس کمزور ہو رہی ہے۔
پاکستان نے عالمی عدالتِ انصاف کو درپیش بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجز کے باوجود مستقل مزاجی اور واضح مؤقف کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کو سراہا۔ عدالت میں زیرِ سماعت مقدمات کی غیر معمولی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ مقدمات میں یہ اضافہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے عدالت پر بڑھتے ہوئے اعتماد اور اعتبار کا مظہر ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عدالت کو مناسب مالی اور افرادی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ مقدمات کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے اس کی مؤثر کارکردگی متاثر نہ ہو۔
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلوں اور مشاورتی آرا نے غیر ملکی قبضے، انسانی حقوق اور ماحولیاتی تبدیلی سمیت مختلف اہم معاملات پر بین الاقوامی قانون اور ریاستوں کی قانونی ذمہ داریوں کی مستند تشریح فراہم کی ہے۔ انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے حوالے سے اسرائیل کی ذمہ داریوں پر عدالت کی حالیہ مشاورتی رائے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیل پر قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کارروائیوں میں سہولت فراہم کرے، نہ کہ ان میں رکاوٹ ڈالے۔
ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق ریاستوں کی ذمہ داریوں پر عالمی عدالتِ انصاف کی 2025ء کی مشاورتی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت نے پاکستان کے پیش کردہ اہم قانونی مؤقف کی توثیق کی ہے۔ ان میں ریاستوں کی یہ ذمہ داری شامل ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں ہونے والی ایسی سرگرمیوں کی روک تھام کریں جو سرحد پار نمایاں نقصان کا باعث بن سکتی ہوں، نیز ایسے اقدامات یا کوتاہیوں کے نتیجے میں دیگر ریاستوں کو پہنچنے والے ماحولیاتی نقصانات کی ذمہ داری بھی قبول کریں۔
اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ عالمی عدالتِ انصاف کے عدالتی کردار کو سفارت کاری اور مذاکرات کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا، فرسٹ سیکرٹری نے کہا کہ تنازعات کے پُرامن حل اور ان کی روک تھام کے لیے محض قانونی چارہ جوئی کافی نہیں، بلکہ رکن ممالک کی جانب سے عدالت کے فیصلوں کی پاسداری اور انہیں مکمل اخلاص کے ساتھ نافذ کرنے کے لیے سیاسی عزم اور حوصلہ بھی ناگزیر ہے۔
عالمی عدالتِ انصاف کے قیام کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر انہوں نے قانون کی حکمرانی سے اپنی وابستگی کی تجدید اور عدالت کے کردار کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون پر پاکستان کے غیر متزلزل یقین کا اعادہ کرتے ہوئے فرسٹ سیکرٹری ذوالفقار علی نے ان مقاصد کے مکمل حصول کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔











