اسلام آباد۔30اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان 2030 تک ویکسین کی خریداری کے لیے غیر ملکی مالی معاونت سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے گا ، ملک میں جعلی ادویات کی روک تھام اور ادویات کی اصلیت، قیمت اور تاریخِ تنسیخ کی تصدیق کے لیے بارکوڈ کا نظام نومبر کے اختتام تک ملک بھر میں نافذ کر دیا جائے گا۔
قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اراکین کے سوالوں کے جواب میں وفاقی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان میں 13 بیماریوں سے بچا ئوکے لیے ویکسین فراہم کی جاتی ہیں اور یہ تمام ویکسین درآمد کی جاتی ہیں اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان ویکسین کی خریداری کے مجموعی اخراجات کا 51 فیصد برداشت کر رہی ہیں جبکہ بین الاقوامی شراکت دار 49 فیصد مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 2030 تک ویکسین کی خریداری کے تمام اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے، جس پر سالانہ تقریبا 1.2 ارب ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔
حکومت اس صورتحال کے پیش نظر ویکسین کی مقامی پیداوار میں خود کفالت کے لیے ابھی سے اقدامات کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں تمام 13 ویکسین ملک میں تیار کی جا سکیں اور ان کی درآمد پر قیمتی زرمبادلہ خرچ نہ کرنا پڑے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے صحت کے شعبے کے مجموعی اخراجات میں غیر ملکی معاونت کا حصہ تین فیصد سے بھی کم ہے۔ گلوبل فنڈ پاکستان میں ایچ آئی وی، ملیریا اور تپ دق کے خاتمے کے منصوبوں کی مالی معاونت کرتا ہے، تاہم اس فنڈ کی رقوم براہ راست حکومت کو فراہم نہیں کی جاتیں بلکہ پاکستان میں دو نجی غیر سرکاری تنظیمیں ان منصوبوں پر عمل درآمد کرتی ہیں اور فنڈنگ براہ راست انہی کو موصول ہوتی ہے۔











