اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ گلیشیئرز کا پگھلنا اور کلائوڈ برسٹ موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات میں شامل ہےجس کے نتیجے میں پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں آبادیاں، انسانی زندگیاں اور تہذیبیں متاثر ہو رہی ہیں جبکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور متاثرہ ممالک تک موسمیاتی مالی معاونت کی فراہمی ناگزیر ہے،سیلاب بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں ،موسمیاتی تبدیلی عصر حاضر کا سب سے بڑا چیلنج ہے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نےپیرکو یہاں ‘‘پری کاپ۔31 ڈائیلاگ ’’سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے اور کلائوڈ برسٹ سے پاکستان سمیت دنیا کےمختلف ممالک کو سنگین خطرات لاحق ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کو ماحولیاتی مالی معاونت کی مناسب فراہمی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلیشیئرز سے متعلق تباہ کن واقعات کو محض اعداد و شمار کے طور پر دیکھنے کے بجائے ان کے انسانی پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہےکیونکہ ان آفات میں صرف مکانات اور بنیادی ڈھانچے ہی تباہ نہیں ہوتے بلکہ لوگوں کے بچپن، یادیں، معاش اور پوری آبادیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ڈاکٹر مصدق ملک نےکہا کہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز کے پھٹنے کے واقعات اس کے برعکس انتہائی تباہ کن مناظر پیش کرتے ہیں جہاں بڑے بڑے پتھر، پانی کے ریلے اور زمین کی لرزش چند لمحوں میں آبادیوں کو اجاڑ دیتے ہیں۔ ایسے واقعات میں نچلی آبادیوں اور وہاں کی پوری تہذیب کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔وفاقی وزیر نے ہنزہ کی وادی حسن آباد میں ششپر گلیشیئر کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں لوگ 400 سال سے زیادہ عرصے سے آباد تھے اور گلیشیئر ان کی زندگی کا اہم حصہ تھا۔ مقامی لوگ پہاڑوں اور گلیشیئر کو قدرت کا کرشمہ سمجھتے تھے تاہم درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیئر کے پیچھے ایک جھیل بن گئی جو وقت کے ساتھ بڑی ہوتی چلی گئی۔ بعد ازاں جھیل پھٹنے کے نتیجے میں علاقے میں تباہی آئی اور لوگوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے گھروں سے نکل کر بھاگنا پڑا۔انہوں نے بتایا کہ لوگ اپنی جانیں بچانے میں کامیاب ہوئےتاہم ان کے مویشی، سکول، کلینک اور دیگر بنیادی سہولیات تباہ ہوگئیں، اس واقعے میں تقریباً ایک ہزار مکانات تباہ ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر مشترکہ تحقیق اورتعاون کے ذریعے گلیشیئرز سے وابستہ خطرات کو سمجھنے اور مستقبل کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کی جا سکتی ہے۔











