کوئٹہ، 20 اکتوبر (اے پی پی):بلوچستان کے اقلیتی سینیٹر دنیش کمار نے کہا ہے کہ ہنگلاج ماتا استھان پاکستان میں مذہبی آزادی، امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک نمایاں علامت ہے، جہاں ہر سال پاکستان بھر سے ہزاروں ہندو یاتری مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ اپنی رسومات ادا کرنے آتے ہیں۔ ہنگلاج ماتا استھان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ رواں سال بھی پاکستان بھر سے ہزاروں یاتریوں نے نو روزہ تہوار (نوراتری) میں شرکت کی، جبکہ حکومت بلوچستان کی جانب سے یاتریوں کو سہولیات کی فراہمی اور بہتر انتظامات کے لیے موثر اقدامات کیے گئے، جو بین المذاہب ہم آہنگی کی بہترین مثال ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے ہنگلاج ماتا استھان کے انتظامات اور یاتریوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے بلوچستان کی پہلی ہندو اسسٹنٹ کمشنر کشش چوہدری کو فوکل پرسن مقرر کیا، جو اقلیتوں کے مذہبی حقوق کے احترام اور ان کی سہولت کے لیے ایک مثبت اقدام ہے۔سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ پاکستان، بالخصوص بلوچستان میں کسی بھی غیر مسلم پر جبر نہیں کیا جا رہا۔ بلوچستان کے دشوار گزار اور سنگلاخ پہاڑی سلسلے میں ہزاروں یاتریوں کی آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے عوام تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور مذہبی رواداری پر یقین رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہنگلاج ماتا استھان جیسے مذہبی مقامات نہ صرف ہندو برادری کے لیے روحانی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ پاکستان میں امن، بھائی چارے، مذہبی آزادی اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔











