اسلامی ممالک کے درمیان اقتصادی انضمام، تجارتی شراکت داری اور سرمایہ کاری کا فروغ ناگزیر ہے، جام کمال خان  

7

استنبول، 3 نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کے درمیان اقتصادی انضمام، تجارتی شراکت داری اور سرمایہ کاری کا فروغ ناگزیر ہے، جس سے عالمی معیشت میں ان کی اجتماعی حیثیت مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔ وہ ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز کی زیر صدارت اسلامی تعاون تنظیم کی اقتصادی و تجارتی تعاون کی قائمہ کمیٹی  کے 42 ویں اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی ممالک کو اپنی برآمدات بڑھانے کے لیے جدید اور کم لاگت تجارتی مالیاتی سہولتوں کو فروغ دینا ہوگا، جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں  کو آسان مالیاتی سہولتوں اور عالمی منڈیوں تک رسائی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اجلاس کے دوران انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے برآمدات کے فروغ اور تجارتی خطرات میں کمی کے لیے ‘ایگزم بینک’ کو فعال کر دیا ہے جو برآمد کنندگان کو قرضوں کی انشورنس، مالی ضمانتوں اور ری فنانسنگ کی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے برآمد کنندگان کے لیے رعایتی مالیاتی سہولتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور کاروباری اداروں کو فوری مالی تعاون فراہم کرنے کے لیے برآمدی قرضوں کے نظام کو تیزی سے ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں مرابحہ، سلم اور اجارہ سمیت اسلامی اصولوں پر مبنی مالیاتی سہولتوں کو بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔

جام کمال خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قائم اسلامی چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ 57 اسلامی ممالک کے نجی شعبوں کو آپس میں منسلک کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اسلامی ممالک کے درمیان تجارتی شراکت داری، باہمی سرمایہ کاری اور کاروباری روابط بڑھانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں باہمی تعاون اسلامی ممالک کی معاشی مسابقت کو نمایاں حد تک بڑھا سکتا ہے۔ خطاب کے آخر میں انہوں نے کے موثر کردار کی تعریف کی اور اجلاس کے بہترین انعقاد پر ترکیہ کی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔