بینظیر انکم سپورٹ پروگرام مستحق خاندانوں کو معاشی تحفظ، بچوں کی تعلیم، صحت اور خواتین کی مالی خودمختاری کے لیے مؤثر معاونت فراہم کر رہا ہے، سینیٹر روبینہ خالد

8

اسلام آباد، 06 نومبر (اے پی پی): چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ بی آئی ایس پی قومی معیشت اور انسانی ترقی میں سرمایہ کاری کا ایک اہم پروگرام ہے، جو ملک بھر کے مستحق خاندانوں کو معاشی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ان کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کر رہا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی ایک مضبوط اور شفاف ادارہ جاتی نظام کے تحت کام کر رہا ہے، جس کا ہر سال آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ذریعے باقاعدہ آڈٹ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کے تحت فراہم کی جانے والی مالی معاونت مستحق خاندانوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ مقامی معیشت کو بھی تقویت دے رہی ہے۔ عالمی بینک کی تحقیق کے مطابق پروگرام کے تحت خرچ ہونے والے ہر روپے سے مقامی معیشت میں تقریباً 2.34 روپے کی معاشی سرگرمی پیدا ہوتی ہے۔

سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی سے ایک کروڑ دو لاکھ خاندان مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ تعلیمی وظائف کے تحت ایک کروڑ بیس لاکھ بچے اور نشوونما پروگرام کے تحت 14 سے 15 لاکھ بچے معاونت حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بھی اس پروگرام کے ماڈل کو سراہا جا رہا ہے اور مختلف ممالک اس کا مطالعہ کرکے اپنے ہاں اپنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام خواتین اور ان کے خاندانوں کو معاشی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ان کی مالی خودمختاری اور باوقار زندگی کے مواقع بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے۔

بینظیر ہنرمند پروگرام کے حوالے سے چیئرپرسن نے بتایا کہ نئے معاہدے کے تحت پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو تربیتی اداروں میں چھ ماہ کی رہائشی پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس سلسلے میں پاک آسٹریا انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، ہری پور کے تعاون سے نوجوانوں کو جدید اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر سکھائے جائیں گے تاکہ ان کے لیے روزگار کے بہتر مواقع پیدا ہو سکیں۔

ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں بہتری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی نے انٹرآپریبلٹی کا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت چھ شراکت دار بینکوں کے ذریعے مستحق خواتین کے ایک کروڑ ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں۔ اس نظام کے تحت خواتین کسی ایک مخصوص بینک کی پابند نہیں ہوں گی بلکہ ملک بھر میں اپنی سہولت کے مطابق مجاز ریٹیلرز کے ذریعے رقوم وصول کر سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹس کے ذریعے خواتین کو رقم کی وصولی اور نکاسی سے متعلق پیغامات بھی موصول ہوں گے، جس سے ادائیگیوں میں شفافیت، مالی خودمختاری اور شکایات کے ازالے کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔

سینیٹر روبینہ خالد نے میڈیا کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ پروگرام کی شفافیت اور بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور ادائیگیوں، بینکوں یا عملے سے متعلق کسی بھی مسئلے کی فوری نشاندہی کریں تاکہ مستحق خواتین کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہر جائز شکایت کا نوٹس لے کر ضروری کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام مستحق خاندانوں کی فلاح، معاشی استحکام، بچوں کی تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔