پاکستان اور برطانیہ کا انسداد دہشتگردی، انسداد منشیات و سائبر کرائم میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

8

اسلام آباد 6 نومبر(اے پی پی):برطانوی وزیر مملکت برائے سکیورٹی ڈین جاروس کی وزارت داخلہ آمد، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری سے ملاقات ہوئی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور برطانوی وزیر مملکت سکیورٹی ڈین جاروس کے درمیان وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔

پاکستان اور برطانیہ کا انسداد دہشتگردی، انسداد منشیات، نادرا، سائبر کرائم، امیگریشن، کوسٹ گارڈز اور تربیتی پروگرامز میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

برطانوی وزیر مملکت سکیورٹی نے غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے ایف آئی اے کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے، اس کے مؤثر سدباب کے لیے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مختلف شعبوں میں بہترین تعاون موجود ہے، اسے مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔

برطانوی وزیر مملکت ڈین جاروس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور کاوشوں کا اعتراف کیا۔

ملاقات میں انسداد منشیات کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت کو جلد حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایم او یو سے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی(این سی اے ) اور پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس(اے این ایف) کے درمیان تعاون مکمل طور پر آپریشنلائز ہو گا۔

محسن نقوی نے کہا کہ چند سال میں برطانیہ سمگل کیے جانے والی منشیات کے 330 کیس ناکام بنائے گئے۔پاکستان اور برطانیہ کی وزارت داخلہ کے درمیان قائم ورکنگ گروپ کا اجلاس جلد بلانے پر اتفاق کیا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپسکیل پراجیکٹ کے تحت پیش رفت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اپسکیل پراجیکٹ پاکستانی اداروں کی استعداد کار بڑھانے میں انتہائی اہم ثابت ہو رہا ہے۔

اس موقع پر برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اور برطانیہ کے متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ وفاقی سیکرٹری داخلہ، سپیشل سیکرٹری و ایڈیشنل سیکرٹریز داخلہ، چیئرمین نادرا، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی اے این ایف، آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری، ڈی جی نیشنل فرانزک ایجنسی، کمانڈنٹ این پی اے، ڈی جی این سی سی آئی اے، ڈی جی پاسپورٹ، چیئرپرسن سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، چیف کمشنر و آئی جی اسلام آباد پولیس بھی موجود تھے۔