لاہور،05نومبر ( اے پی پی ): سیکرٹری/چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف و مذہبی امور پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا ہے کہ قرآن مجید کے تقدس، احترام اور تحفظ کو یقینی بنانے، طباعت و اشاعت میں کسی بھی قسم کی غلطی یا تحریف کے امکانات کے خاتمے اور متبرک اوراق کی حفاظت کے لیے محکمہ اوقاف پنجاب تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ اس سلسلے میں صوبہ بھر کے اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کے تعاون سے قرآن محل قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں بوسیدہ اوراقِ قرآن اور دیگر مقدس تحریری مواد کو مکمل احترام اور شرعی تقاضوں کے مطابق محفوظ رکھنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمگیری بادشاہی مسجد لاہور کے دورے کے موقع پر متعلقہ افسران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے قرآن گیلری کا تفصیلی معائنہ کیا، جہاں آٹھ سال کے وقفے کے بعد پہلی مرتبہ قرآن پاک کے نادر اور تاریخی نسخوں کی صفائی، بحالی اور تحفظ کا خصوصی کام شروع کیا گیا ہے۔ یہ کام محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب اور لاہور میوزیم کے ماہرین کی نگرانی میں انجام دیا جا رہا ہے، جو ان مقدس نسخوں کے اوراق پر جمی گردوغبار اور دیگر آلودگی دور کرنے کے ساتھ ریشمی اوراق پر ظاہر ہونے والی سلور فش (Silverfish) کے اثرات ختم کرنے اور انہیں مزید نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی تکنیکی طریقہ کار اختیار کر رہے ہیں۔ قرآن گیلری میں رکھے گئے یہ نادر نسخے 30 پاروں پر مشتمل ہیں، جن کی تیاری کا منصوبہ 1966ء میں شروع کیا گیا جبکہ 1976ء سے انہیں بادشاہی مسجد میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ ان نسخوں کی نمایاں خصوصیت ماہر خوش نویسوں کی ہاتھ سے کی گئی خطاطی اور سونے و چاندی کی ملمع کاری ہے، جو اسلامی فنِ خطاطی اور فنونِ لطیفہ کا ایک منفرد تاریخی شاہکار ہے۔ ڈاکٹر احسان بھٹہ نے ہدایت کی کہ ان نادر قرآنی نسخوں کی صفائی، بحالی اور مستقل حفاظت کے لیے بین الاقوامی میوزیم اسٹینڈرڈز کو مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے قرآن گیلری میں نصب شوکیسز کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کرنے، ان کی تزئین و آرائش اور خوب صورتی میں اضافے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شوکیسز میں جدید لائٹنگ، درجہ حرارت اور نمی کو کنٹرول کرنے کے مؤثر انتظامات کیے جائیں تاکہ مقدس نسخوں کو گردوغبار، ماحولیاتی اثرات اور دیگر ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شوکیسز کی ترتیب اور ڈسپلے کو اس انداز میں بہتر بنایا جائے کہ قرآن پاک کے تاریخی نسخوں کی خطاطی، سونے اور چاندی کے کام اور فنی خصوصیات نمایاں ہوں اور زائرین و سیاح ان عظیم قرآنی نوادرات کا بآسانی مشاہدہ کر سکیں۔ سیکرٹری اوقاف نے بادشاہی مسجد میں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی (WCLA) کے زیرِ نگرانی جاری کنزرویشن اور بحالی کے کاموں کا بھی جائزہ لیا اور اس امر پر زور دیا کہ تاریخی عمارت کے تحفظ سے متعلق جاری سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی جائے، جبکہ تمام کام اعلیٰ معیار اور مستند تاریخی و فنی تقاضوں کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور کوآرڈینیشن یقینی بنانے، چھتوں سے پانی کے رساؤ اور سیپیج کی روک تھام، گنبدوں کی صفائی و دیکھ بھال اور دیگر ضروری امور پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے قرآن گیلری اور ملحقہ بلاک میں رنگ و روغن، شوکیسز کی جدید خطوط پر تزئین و آرائش اور زائرین و نمازیوں کی سہولیات میں بہتری کے لیے بھی ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔ ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا کہ تاریخی مساجد، مزارات اور مذہبی و ثقافتی ورثے کا تحفظ حکومت پنجاب کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور بادشاہی مسجد، تبرکات گیلری اور مزارِ اقبال سے متعلقہ امور کی بہتری کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون اور رابطہ جاری رکھا جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے نئی تعمیر شدہ تبرکات گیلری کا بھی دورہ کیا اور وہاں موجود مقدس و تاریخی تبرکات کی حفاظت، نگہداشت، نمائش اور زائرین کے لیے سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تبرکاتِ مقدسہ کی حفاظت اور دیکھ بھال کے انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ یہ عظیم دینی و تاریخی اثاثہ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر پراجیکٹس اوقاف رفیق نور وٹو، ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ پنجاب محمد اقبال منج، ایڈمنسٹریٹر بادشاہی مسجد لاہور گلزار احمد اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔











