اسلام آباد، 05 نومبر (اے پی پی): وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے فروغ، مالی سہولیات تک آسان رسائی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے متعلقہ مالیاتی اداروں کے درمیان تعاون مزید مستحکم بنانے پر زور دیا ہے۔
وزیر خزانہ کی زیر صدارت اجلاس میں ایس ایم ایز کی مالی معاونت کے لیے جاری اقدامات اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے وژن کے مطابق چھوٹے کاروباری اداروں کو مالیاتی نظام سے منسلک کرنے، کاروباری مواقع بڑھانے اور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں ایس ایم ای کنیکٹ پورٹل کی پیش رفت کو سراہا گیا، جس کے ذریعے چھوٹے کاروباری ادارے براہ راست قرضوں کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اور بینکوں سے مالی معاونت حاصل کر سکتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے پورٹل کے آغاز کے بعد کاروباری برادری کی جانب سے ظاہر کی جانے والی دلچسپی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس سہولت کو مزید مؤثر اور آسان بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایس ایم ایز کی مختلف ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی سہولیات کی فراہمی اور کاروباری اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے لیے مربوط اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے برآمدات سے وابستہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل کے مؤثر استعمال اور بینکنگ شعبے، سمیڈا اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔
اجلاس میں اس امر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ مالیاتی اداروں اور سمیڈا کے باہمی تعاون سے چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے قرضوں کے حصول کے مواقع کو مزید وسعت دی جائے تاکہ وہ قومی معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور برآمدات کے فروغ میں اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کر سکیں۔
وزیر خزانہ نے ایس ایم ایز کے لیے مالی سہولیات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے اور ایس ایم ای کنیکٹ پورٹل کے ذریعے کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے کے لیے مربوط کوششیں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔











