مصنوعی ذہانت کے نقصان دہ استعمال اور غلط معلومات کی روک تھام کے لیے عالمی کنونشن ناگزیر ہے، عطاء اللہ تارڑ

6

اسلام آباد،05نومبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے غلط استعمال اور غلط و گمراہ کن معلومات کی روک تھام کے لئے عالمی کنونشن اور موثر ریگولیٹری و لیگل فریم ورک کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیجیٹل محاذ پر جرائم کی روک تھام کے لئے قوانین کو مضبوط کیا گیا ہے، سوشل میڈیا مواد کے لئے اے آئی لیبلنگ ضروری ہے، آزادی اظہار رائے پر کوئی قدغن نہیں، پیکا ایکٹ کا مقصد الیکٹرانک جرائم اور سائبر و ڈیجیٹل دنیا میں ہونے والے جرائم کی روک تھام ہے، یہ آزادی اظہار پر قدغن یا صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکنے کا قانون نہیں، اس کا مقصد شہریوں کو آن لائن دھمکیوں، ہراسانی اور غلط معلومات کے ذریعے بدنام کرنے جیسے جرائم سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ وہ جمعرات کو یہاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کی 29 ویں پائیدار ترقی کانفرنس اور چوتھی ایس آئی ایکسپو کے سلسلے میں منعقدہ پینل مباحثے میں گفتگو کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی لازمی لیبلنگ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے حقائق کی جانچ کے نظام کو موثر بنانے اور معاشرے میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) سمیت مختلف اداروں کے ساتھ مل کر اس ضمن میں اقدامات کئے ہیں جبکہ ڈیجیٹل میڈیا کی صلاحیت بڑھانے اور تربیتی پروگرام متعارف کرانے پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹک ٹاک“ نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی لیبلنگ لازمی قرار دی ہے جو ایک مثبت اقدام ہے تاہم سوشل میڈیا الگورتھم ابھی سچائی اور انصاف کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتے۔ مصنوعی ذہانت سے جزوی یا مکمل طور پر تیار کردہ مواد کی واضح نشاندہی صارفین میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ روایتی میڈیا میں ادارتی نظام، ایڈیٹرز اور ادارتی بورڈز موجود ہیں تاہم سمارٹ فون اور کیمرے کی دستیابی کے باعث اب ہر شہری براڈ کاسٹر بن چکا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سوشل میڈیا کے لیے زیادہ موثر ریگولیٹری فریم ورک، معلومات کی تصدیق اور حقائق کی جانچ کے نظام کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کمیونٹی نوٹس کا نظام اس حوالے سے مفید مثال ہے جس کے ذریعے پرانی ویڈیوز یا گمراہ کن مواد کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ بہتر روابط، معاشرے کے تمام طبقات کی استعداد کار میں اضافہ اور صحافت، ابلاغ عامہ اور ڈیجیٹل میڈیا میں الگورتھم اور فیکٹ چیکنگ سے متعلق خصوصی کورسز متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات نے ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے شعبے میں اپنی صلاحیت بڑھانے کے لیے قواعد کار میں تبدیلی کی اور پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کیا جہاں معلومات کی تصدیق اور ڈیجیٹل مواد کی تیاری کے لیے ماہرین کی ٹیم موجود ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ موجودہ دور میں ہر پلیٹ فارم اور ہر طبقے کے لیے ایک ہی نوعیت کا پیغام موثر نہیں ہو سکتا۔ درست معلومات کو درست سامعین تک مناسب پلیٹ فارم اور موزوں انداز میں پہنچانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستانی میڈیا، نوجوانوں اور معاشرے کے مختلف طبقات نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جبکہ ریاستی اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری اور تصدیق شدہ معلومات کی بروقت فراہمی نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر بھارتی غلط معلومات اور جھوٹے دعوؤں کی نشاندہی کرتے ہوئے حقائق سامنے لانے میں کردار ادا کیا۔ اس دوران آئی ایس پی آر کے ساتھ وزارت اطلاعات کی رابطہ کاری بھی موثر رہی اور تصدیق شدہ معلومات بروقت میڈیا اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک پہنچائی جاتی رہیں۔  معرکہ حق کے دوران ہماری پوری قوم نہ صرف متحد تھی بلکہ ہمارا میڈیا، سوشل میڈیا، نوجوان، معاشرے کے ہر طبقے نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جبکہ حکومت نے مستند معلومات کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ سے قبل، جنگ کے دوران اور جنگ کے بعد ہم نے ہر جگہ سچ کو غالب رکھا جبکہ بھارت کی طرف سے تینوں بیانیوں میں جعلی اور من گھڑت معلومات کا سہارا لیا گیا، ہم جو بھی پوسٹ کر رہے تھے وہ شواہد پر مبنی تھی جس سے ہمیں اپنا بیانیہ مضبوط بنانے میں بہت مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی بحران کے دوران حکومت کو فوری معلومات کی فراہمی اور حقائق کی تصدیق کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ کسی واقعے کی اطلاع فوری دی جا سکتی ہے تاہم اس کی تفصیلات اور مختلف پہلوؤں کی تصدیق کے بعد مرحلہ وار معلومات جاری کرنا ضروری ہے تاکہ عوام میں خوف و ہراس پیدا نہ ہو اور حقائق بھی سامنے آتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل میں حکومت، ریاستی اداروں، میڈیا ہائوسز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے درمیان رابطہ کاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سائبر اور ڈیجیٹل دنیا میں جرائم کی روک تھام کے لیے موثر قانونی نظام ضروری ہے، آن لائن ہراسانی، خواتین کو بلیک میل کرنے، نامناسب پیغامات بھیجنے، بچوں کے جنسی استحصال اور دیگر ڈیجیٹل جرائم کے متاثرین کو داد رسی کا مناسب فورم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) قائم کی گئی ہے اور اس کے علاقائی دفاتر میں تربیت کا عمل جاری ہے۔ پیکا کے تحت ڈیجیٹل جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کی جائے گی جبکہ شہریوں میں آگاہی بھی بڑھائی جائے گی تاکہ وہ کسی سائبر خطرے کی صورت میں متعلقہ فورم سے رجوع کر سکیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سوشل میڈیا ریگولیٹری اینڈ پروٹیکشن اتھارٹی بھی قائم ہو چکی ہے اور اس کا ادارہ جاتی نظام بتدریج ترقی کرے گا، وقت کے ساتھ ضوابط اور قانونی طریقہ کار تشکیل پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے نقصان دہ استعمال سے نہ صرف غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلنے کا خطرہ ہے بلکہ میڈیا انڈسٹری کے تخلیقی شعبوں میں روزگار بھی متاثر ہو رہا ہے۔ اشتہارات، فلم سازی اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں سے وابستہ افراد کے کام کو تحفظ دینے کے لیے انسانی تخلیقی صلاحیت اور انسانی شمولیت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے مواد کی لیبلنگ کے ساتھ مضبوط قانونی و ضابطہ جاتی فریم ورک اور عالمی سطح پر قابل قبول کنونشن کی ضرورت ہے جس پر مختلف ممالک دستخط کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ریاض اور استنبول میں منعقدہ  اسٹریٹ  کام کانفرنسوں میں بھی تجویز پیش کی گئی تھی کہ مصنوعی ذہانت کے نقصان دہ استعمال اور غلط معلومات کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی کنونشن تشکیل دیا جائے۔ پیکا اور صحافیوں کے حقوق سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کے لیے پیمرا،  اخبارات کے لیے پریس رجسٹرار، آڈٹ بیورو آف سرکولیشن اور پریس کونسل سمیت مختلف ادارے موجود ہیں۔ اسی طرح اخباری کارکنوں کے تنازعات کے حل کے لیے امپلی مینٹیشن ٹربیونل آف نیوز پیپر ایمپلائز بھی قانونی تحفظ کے تحت کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیکا کا مقصد الیکٹرانک جرائم اور سائبر و ڈیجیٹل دنیا میں ہونے والے جرائم کی روک تھام ہے، یہ آزادی اظہار پر قدغن یا صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکنے کا قانون نہیں۔ اس کا مقصد شہریوں کو آن لائن دھمکیوں، ہراسانی اور غلط معلومات کے ذریعے بدنام کرنے جیسے جرائم سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سائبر اور ڈیجیٹل جرائم کے خلاف کارروائی کے لیے متعلقہ قانونی نظام ضروری ہے کیونکہ ایک ہی جرم پر دو مرتبہ کارروائی نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی نجی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے مواد کو اس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر بھی پوسٹ کیا جائے تو اس معاملے میں متعلقہ دائرہ اختیار کے مطابق کارروائی ہوگی تاہم ایک ہی جرم پر دو مرتبہ مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پیکا کے حوالے سے بعض خدشات غلط فہمیوں اور قانون کی غلط تشریح پر مبنی ہیں، اس قانون کا مقصد صحافیوں کو ان کے فرائض سے روکنا نہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں شہریوں کو درپیش خطرات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔