اسلام آباد، 5 نومبر (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان آئی ٹی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے، مشترکہ منصوبوں کے فروغ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان کاروباری روابط کو مزید مستحکم بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان اور روس کے درمیان آئی ٹی تعاون کے حوالے سے منعقدہ ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل گورننس اور سائبر سکیورٹی ایسے اہم شعبے ہیں جہاں دونوں ممالک اپنی مہارت اور تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشترکہ پیش رفت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں اور کاروباری اداروں کے درمیان اشتراک سے نئی ٹیکنالوجی مصنوعات کی تیاری اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے مواقع پیدا ہوں گے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کا ہدف 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننا ہے، جس کے لیے ڈیجیٹل معیشت کا فروغ اور آئی ٹی کے شعبے میں ترقی قومی معاشی تبدیلی کے منصوبے اڑان پاکستان کے بنیادی ستونوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نوجوان افرادی قوت کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت ماہرین کی تیاری اور نئے مصنوعی ذہانت مراکز کے قیام سے تحقیق، تربیت، کاروبار اور صنعت کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے نادرا کے شناختی نظام اور فوری ادائیگیوں کے نظام راست کو پاکستان کے ڈیجیٹل شعبے میں نمایاں پیش رفت کی مثالیں قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کی کمپنیوں کے درمیان کاروباری اجلاسوں اور روابط کے ذریعے مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے امکانات کو فروغ مل رہا ہے۔ آئی ٹی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔











