پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے برآمدات پر مبنی ترقیاتی ماڈل اپنانا ضروری ہے، رانا احسان افضل خان

11

اسلام آباد، 04 نومبر (اے پی پی): وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی کے لیے مربوط معاشی حکمت عملی، پالیسیوں میں تسلسل، ادارہ جاتی اصلاحات اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ دینا ہوگی۔ برآمدات پر مبنی ترقیاتی ماڈل کے ذریعے ملکی معیشت کو مستحکم اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے مؤثر حکمت عملی، دستیاب وسائل کا بہتر استعمال اور عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے عالمی مالیاتی تعاون اور نجی سرمایہ کاری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ معاشی استحکام کو روزگار کے مواقع، برآمدات میں اضافے اور عوامی سہولیات کی بہتری سے منسلک کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے معاشی ترقی کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچانے کی اہمیت اجاگر کی۔

پلاننگ کمیشن کے چیف اکانومسٹ ڈاکٹر محمد علی تالپور نے کہا کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے سیاسی استحکام، پالیسیوں میں تسلسل اور مؤثر عمل درآمد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ معروف ماہر اقتصادیات خاقان نجیب نے سرکاری اور نجی شعبوں میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے فروغ، ادارہ جاتی بہتری اور کاروباری سرگرمیوں میں توسیع کی ضرورت پر زور دیا۔

رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات، بجلی کی لاگت میں کمی اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے چھوٹے پن بجلی منصوبوں اور متبادل توانائی کے ذرائع کی ترقی کے ذریعے مقامی آبادیوں کو سستی اور صاف بجلی فراہم کرنے کی تجاویز بھی پیش کیں۔

پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات دانیال چوہدری نے کہا کہ قابل تجدید توانائی پاکستان کے توانائی کے شعبے میں پائیدار ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور پالیسیوں میں ہم آہنگی کے ذریعے صاف توانائی کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے توانائی پالیسی میں اصلاحات اور ان پر مؤثر عمل درآمد کے لیے پارلیمنٹ کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔

سابق وفاقی سیکریٹری صنعت و تجارت سلیمان غنی نے کہا کہ صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے صنعتی، تجارتی اور ٹیکس پالیسیوں میں ہم آہنگی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، توانائی کی لاگت میں کمی اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ضروری ہے۔ انہوں نے کاروبار کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی پر بھی زور دیا۔

ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ صنعتی ترقی کے لیے جامع حکمت عملی اور ایسی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ضروری ہے جو مقامی پیداوار، پراسیسنگ اور روزگار کے مواقع میں اضافے کا باعث بنے۔

سابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے توانائی کے شعبے میں بہتر منصوبہ بندی اور وسائل کے مؤثر استعمال کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ وزارت خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کہا کہ فنانس ڈویژن ماحولیاتی مالی وسائل کے حصول اور ان کے مؤثر استعمال کے لیے ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔