ڈیرہ اسماعیل خان، 04 نومبر (اے پی پی): گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، جبکہ صوبے میں امن، خوشحالی اور ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے امن و امان، سیکیورٹی انتظامات، انتظامی امور اور ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایمرجنسی سے متاثرہ 12 اضلاع کو الگ صوبہ بنانے یا سابق قبائلی علاقوں میں ضم کرنے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ وزیراعظم کے اعلان کردہ 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا 70 فیصد ان اضلاع پر خرچ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں دانش اسکول سسٹم قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ بنوں، ملاکنڈ اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژنوں میں پولیس کی ضروریات، تھانوں، چیک پوسٹوں اور ڈی آئی جی و ڈی پی او دفاتر کی تعمیر و بہتری کے لیے 40 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔
چشمہ رائٹ بینک کینال (سی آر بی سی) کی بحالی کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ متعلقہ حکام کو 15 سے 20 نومبر تک پانی کی فراہمی بحال کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ نہر کے پشتے کمزور ہونے کے باعث قبل از وقت پانی چھوڑنے سے دوبارہ شگاف پڑنے کا خدشہ ہے، جس کے باعث کسانوں کو مزید 15 سے 20 روز انتظار کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ چشمہ لفٹ کینال کے پہلے مرحلے کے ٹینڈرز 11 اور 12 نومبر جبکہ چوتھے مرحلے کی ٹینڈرنگ یکم دسمبر سے شروع ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کے بچوں کے لیے کیڈٹ کالج قائم کیا جا رہا ہے۔ حکومت جامعات اور تعلیمی اداروں کے مسائل حل کرنے کے ساتھ اسپتالوں اور جامعات کو پیشہ ور ماہرین کے ذریعے چلانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت شخصیات کے بجائے اداروں کو مضبوط بنانے پر یقین رکھتی ہے۔گورنر نے مزید کہا کہ صوبے بھر میں تجاوزات کے خاتمے اور صفائی مہمات بلاامتیاز جاری رہیں گی، جبکہ مقامی نمائندوں اور عمائدین کی مثبت تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی سے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فی الحال کوئی بات چیت جاری نہیں اور مذاکرات اسی وقت ممکن ہوں گے جب پارٹی ایک متفقہ مؤقف اختیار کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بدعنوانی کے خاتمے، شفافیت کے فروغ اور سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بھی پرعزم ہے۔











