اسلام آباد ، 2 اپریل (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے لیکن سیاحت ایک ایسا ہیرا ہے جس سے نہ صرف پاکستان کے مثبت تشخص کو دنیا بھر میں اجاگر کیا جا سکتا بلکہ زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے، 2014-15ءتک گلگت بلتستان میں 14، 15 ہزار سیاح جاتے تھے لیکن اس سال 23 لاکھ سیاح گلگت بلتستان گئے جبکہ رواں سال کے دوران ملک کے شمالی علاقہ جات سمیت گلگت بلتستان میں سیاحت کی غرض سے جانے والے سیاحوں کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔
منگل کو یہاں ٹورازم سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے سیاحتی مقامات دنیا بھر کے سیاحتی مقامات سے کہیں زیادہ پرکشش ہیں جہاں پر سیاح قدرت کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہو کر پرلطف لمحات گزار سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان بھی سیاحت کے شوقین ہیں جو قدرت سے بہت پیار کرتے ہیں اور انہوں نے سیاحت کے حوالے سے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کئی ہیرے موجود ہیں اور معدنیات سے مالا مال ملک ہے لیکن سیاحت قدرت کی جانب سے پاکستان کو عطاءکئے جانے والا انتہائی انمول ہیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کے شعبے کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری سے ملکی سیاحت بھی بہتر ہوئی ہے اور اب ہم اس قابل ہیں کہ اپنے پرکشش اور حسین سیاحتی مقامات دنیا بھر کے سیاحوں کو دکھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سیکورٹی کی صورتحال بہتر نہ ہو تو کوئی بھی سیاح علاقے کا سفر نہیں کرتا۔ صدر نے کہا کہ سال 2014-15ءمیں گلگت بلتستان میں 14 سے 15 ہزار سیاح سالانہ آتے تھے لیکن رواں سال ان کی تعداد 23 لاکھ تک بڑھ گئی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو 2023ءتک ٹیکس کی رعایت حاصل ہے اور تصور کریں کہ صرف سیاحت کے شعبہ میں وہاں پر کتنا پیسہ خرچ ہو گا۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ یورپی اندازوں کے مطابق ایک سیاح یومیہ ایک ہزار ڈالر خرچ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال چین، جاپان سمیت دیگر کئی ممالک کے سیاحوں نے پاکستان کے سیاحتی مقامات کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کے دورہ پر آئے تو میں نے ان سے اردن کے سیاحتی مقامات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں 200، 300 سال پرانے تاریخی مقامات ہیں اور وہ سیاحت کے فروغ کے لئے اتنے پرعزم تھے کہ مذہبی مقاصد کے لئے حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والے زائرین کے لئے سعودی عرب میں دیگر سیاحتی مقامات کو بھی کھولنا چاہتے ہیں جس سے انہوں نے 100 ارب ڈالر آمدن کا تخمینہ لگایا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ میں مالم جبہ میں سکیئنگ کر چکا ہوں اور اس کا مجھے بہت شوق ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سیاحت کے فروغ کے لئے جامع پالیسی بنائی ہے اور ہمارے وزیراعظم کو بھی سیاحت کا شوق ہے اور وہ سیاحت کے شعبہ کی ترقی میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں دیوسائی، ہنزہ، گلگت بلتستان سمیت فیری میڈوز جیسے پرکشش ترین سیاحتی مقامات ہیں، جب میں فیری میڈوز گیا تو وہاں پر ہوٹل بنا بنا کر میڈو کو کم کر دیا گیا، اس لئے ہمیں ذمہ دارانہ ترقی پر خصوصی توجہ دینی ہو گی تاکہ قدرت کے حسین مناظر کو محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں وادی ہنزہ گیا تو میں نے پرنس کریم آغا خان کو خط لکھا کہ وہ وادی میں تعلیم، صحت اور شہریوں کو ذمہ دار شہری بنانے کے علاوہ ثقافت کے فروغ کے لئے بہت زیادہ کام کر رہے ہیں، میں نے ان سے درخواست کی کہ علاقہ میں عمارتوں کی تعمیر کے لئے ایک بورڈ بنا دیں تاکہ قدرتی مناظر کو محفوظ رکھا جا سکے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ عطا آباد جھیل سوئٹزرلینڈ میں پائی جانے والی جھیلوں سے بھی کہیں خوبصورت جھیل ہے جو قدرتی جھیل ہے اور اس جیسی خوبصورت جھیل شاید کوئی اور نہ ہو اس لئے ضروری ہے کہ ترقی ذمہ داری سے ہو تاکہ خوبصورتی ختم نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں حکومت نے سیاحت کے شعبہ کے فروغ کے لئے ویزہ پالیسی کو آسان بنایا ہے جو سیاحت کے لئے بہت بڑی تبدیلی واقع ہو گی۔ انہوں نے 70 کی دہائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھٹو صاحب کی حکومت میں پاسپورٹ بنانے کے لئے تین تا چھ ماہ درکار ہوتے تھے لیکن جب مشرق وسطیٰ میں ترقی شروع ہوئی تو انہوں نے خصوصی اقدامات کر کے پاسپورٹ بنانے کے دورانیہ کو دو تین ہفتوں تک محدود کر دیا تاکہ لوگ جلد از جلد پاسپورٹ بنوا کر روزگار کے لئے باہر جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ویزہ کے منفی استعمال کے بارے میں بھی آگاہی پیدا کرنا ہو گی تاکہ اس کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کی صورتحال میں بہتری سے رواں سال 25 لاکھ سے زیادہ سیاح پاکستان آئے ہیں۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کے پی کے صوبائی وزیر صحت عاطف خان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ کام میرٹ پر کرتے ہیں اور ہمیں ایسے لوگوں پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں نے عاطف خان سے خیبرپختونخوا میں ایک خاتون کی نوکری کی سفارش کی تو انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ میرٹ پر پورا اتریں تو اس کو نوکری ضرور ملے گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہماری حکومت کرپشن کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے اور ہمیں مل کر حکومت کے منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لئے کردار ادا کرنا چاہیے۔
وی این ایس، اسلام آباد











