پاکستانی نوجوان  سوشل میڈیا کے ذریعے دنیابھر میں مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کریں : ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

206

اسلام آباد ، 22 اگست (اے پی پی):وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ آزادی اظہار رائے پر عمل کرتے ہوئے مصدقہ اور بروقت خبر عوام تک پہنچانا اور غیر مصدقہ خبروں کا قلع قمع کرنا مہذب، ذمہ دار اور جمہوری معاشرہ کی اقدار ہیں اور ایسے ذمہ دار معاشروں میں میڈیا پر پابندیاں نہیں لگتیں، مختلف یونیورسٹیوں کے ابلاغیات کے شعبوں سے وابستہ تعلیم یافتہ نوجوان میڈیا کا حصہ بننے جا رہے ہیں، ان کی درست سمت تعلیم و تربیت اور انہیں قومی بیانیہ سے روشناس کرانا ہماری ذمہ داری ہے، میڈیا معلومات کے تبادلہ کے ذریعے عملی سوچ پیدا کرنے اور حکمت عملی مرتب کرنے میں مددگار ہوتا ہے اور حکومت، سول سوسائٹی اور قومی سلامتی سے جڑے اداروں میں رائے سازی کی راہ ہموار کرتا ہے، پاکستان پیس کولیکٹو نے دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف قومی بیانیہ تشکیل دینے میں بروقت کلیدی کردار ادا کیا ہے، گلوبل ویلج میں تبدیل ہوتی دنیا میں سوشل میڈیا کی اہمیت بڑھ گئی ہے، تربیتی کورس کے میڈیا کے معمار جدید آلات اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کشمیری نوجوانوں کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے ان سے اظہار یکجہتی کریں اور مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اُجاگر کریں۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پاکستان پیس کولیکٹو کے زیر اہتمام دہشت گردی، انتہاء پسندی کے خلاف قومی بیانیہ تشکیل دینے کیلئے خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کی مختلف یونیورسٹیوں کے ذرائع ابلاغ کے شعبوں کے طلباء کی تین روزہ تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 انہوں نے کہا کہ تربیتی ورکشاپ کے شرکاء پاکستان کے میڈیا کا مستقبل بننے جا رہے ہیں، توقع ہے کہ وہ اپنے تعمیری اور مثبت کردار کے ذریعے قومی بیانیہ کو مقدم رکھیں گے اور ایک ذمہ دار اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کا میڈیا کا حصہ بننا خوش آئند ہے، پاکستان پیس کولیکٹو نے بروقت یہ اہم قدم اٹھایا ہے جس سے نوجوان مستقبل کے معمار صحافیوں کی درست سمت کے تعین میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار اور جمہوری معاشروں میں میڈیا کا کردار اہم ہوتا ہے، ایک روشن خیال اعتدال پسند اور فعال معاشرہ کی تشکیل میں میڈیا کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

 ڈاکٹر فردوس عاشق  اعوان  نے کہا کہ پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے اور نوجوانوں کو قومی بیانیہ سے روشناس کرانا وقت کا تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا 65 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے جن میں مردوں و خواتین دونوں شامل ہیں۔ یوتھ پاکستان تحریک انصاف کا سب سے اہم اثاثہ ہے ۔

 انہوں نے کہا کہ کمیونیکیٹر ہونے کے ناطے پاکستانی نوجوان اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ان نہتے کشمیری نوجوانوں کے ساتھ یکجہتی کریں جو لینڈ لاک کا شکار ہیں ان کے کالج، یونیورسٹیاں اور سکول جانے پر پابندی لگ گئی ہے اور انہیں بنیادی ضرورتوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان اپنے سوشل میڈیا کے ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے عالمی چیپمپیئن کے ضمیروں کو جھنجھوڑیں۔ انہوں نے کہا کہ برہان وانی کی شہادت نے اس تحریک کو ایک نیا موڑ دیا ہے اور کشمیری نوجوان بھارتی مظالم اور آر ایس ایس کے ناپاک عزائم کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں، ایک وانی کی شہادت کے بعد آج مقبوضہ وادی میں کئی وانی پیدا ہو گئے ہیں اور کشمیر کا بچہ بچہ بھارتی مظالم کے سامنے کھڑا ہے۔

 ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ قرآن پاک بہترین ضابطہ ہے، ہم امن پسند قوم ہیں، اسلام ہمیں امن پسندی کا درس دیتا ہے لیکن بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو دہشت گردی سے منسوب کرنے کیلئے مسلسل سازشیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا روشن خیال اعتدال پسند چہرہ اس کے نوجوان ہیں اور نوجوانوں نے بھارت کے اس منفی پروپیگنڈے کو زائل کرنا ہے اور پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی درست سمت آگاہی اور انہیں بااختیار بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔

 قبل ازیں پاکستان پیس کولیکٹو (پی پی سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں شبیر انور نے مہمان خصوصی کا خیرمقدم کیا اور پی پی سی کے مختلف منصوبوں اور سرگرمیوں میں دلچسپی کی تعریف کی۔ انہوں نے مختلف یونیورسٹیوں کے تدریسی عملہ کی بھی تعریف کی جنہوں نے اس تربیتی ورکشاپ کیلئے طلباء کے انتخاب اور نامزدگیوں میں معاونت فراہم کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تین روزہ تربیتی ورکشاپ کے دوران طلباء و طالبات کو ذرائع ابلاغ کی جن مہارتوں اور امن کے فروغ کیلئے ذمہ داریوں کا احساس دلایا گیا ہے وہ اس پر مستقبل میں عمل پیرا ہو کر عملی میدان میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں گے۔

 اس موقع پر طلباء کی طرف سے تیار کی گئیں دستاویزی فلمیں بھی پیش کی گئیں جو ان طلباء نے تین روزہ تربیتی ورکشاپ کے دوران جدید آلات کو استعمال کرتے ہوئے تیار کی تھیں۔ تربیتی ورکشاپ کے دوران طلباء کو موبائل، کیمرے اور دیگر سوشل میڈیا کے آلات کو استعمال کرنے سے متعلق تربیت دی گئی اور دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خاتمہ سے متعلقہ قومی ذمہ داریوں کا احساس دلایا گیا۔

وی این ایس، اسلام آباد