وفاقی کابینہ اجلاس، وزیرِ اعظم کو اقوام متحدہ اجلاس میں  مظلوم کشمیروں کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرنے  پر مبارکباد

183

اسلام آباد ، یکم اکتوبر (اے پی پی): وفاقی کابینہ نے وزیرِ اعظم عمران خان کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں  مظلوم کشمیروں کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرنے اور بھارتی حکومت کی جانب سے غیر قانونی اور ظالمانہ اقدامات کو بے نقاب کرنے پر مبارکباد پیش کی ہے، وفاقی کابینہ نے گوادر بندرگاہ کو ٹیکسیشن سے مستثنیٰ قرار دینے، ای کامرس پالیسی اور حلال فوڈ اتھارٹی کے قیام کے لئے بین الوزارتی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دیدی، کابینہ نے ڈینگی کا مرض پھیلنے، مصنوعی طور پر آٹے کی قیمت میں اضافے کی شکایت پر تشویش کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم  عمران خان نے ہدایت کی کہ مختلف وزارتوں کی جانب سے مفاد عامہ کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے اقدامات  کو تحریری صورت میں لا کر کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ان پر مقررہ وقت میں عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان، ملائیشیا اور ترکی نے مل کر بی بی سی طرز کا چینل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

منگل کو وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہی تھیں۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کابینہ اجلاس شروع ہونے سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے سربراہان، تھنک ٹینکس سے ملاقاتوں سمیت 70سے زائد تعارفی سیشنز کے حوالے سے کابینہ کو آگاہ کیا جبکہ وزیر خارجہ نے 50ملاقاتیں کیں جن کا ون پوائنٹ ایجنڈا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی بیانیے کو شکست دی جائے  اوربھارت کا سیاہ مکروہ  چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے ،اقوام متحدہ کی اپنی قراردادیں ،قوانین اور ضابطوں کے مطابق  مظلوم کشمیریوں کو ان کا حق دلایا جائے ۔وزیراعظم نے بتایا کہ وہ قیادت کی سطح پر ملاقاتوں میں اصل صورتحال بتا کر ان کے ذہنوں کو بدلنے میں کامیاب ہوئے۔

 وزیرِ اعظم نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ اسلام کی اصل روح، تعلیمات اور اسلامی تہذیب کو اجاگر کرنے اور اسلام کے خلاف منفی پراپیگنڈے (اسلام فوبیا) کا مقابلہ کرنے کے لئے  ترکی اور ملائشیا کے ساتھ مل کر ایک چینل بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترکی کی جانب سے سلطنت عثمانیہ کے دور سے متعلق تیار کیے جانے والے ڈرامہ سیریل کو بھی پاکستان میں نشر کیا جائے گا تاکہ سلطنت عثمانیہ اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو اجاگر کیا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اسلام کے خلاف بیرونی دنیا میں منفی پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اسلام کی عظیم شخصیات کی زندگیوں کو اجاگر کریں تاکہ   نئی نسل میں اسلام کے عظیم المرتب شخصیات کے بارے میں آگاہی میں اضافہ ہو  اور منفی پراپیگنڈے کا بھی بھرپور مقابلہ کیا جا سکے۔

 اجلاس میں کابینہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ اجلاس اس سال کا (جنوری 2019سے) 37 واں اجلاس ہے، اب تک1143 فیصلے لیے گئے، ان فیصلوں میں1020پر مکمل عمل درآمد کیا جا چکا ہے جو کہ کل فیصلوں کا 90 فیصد ہے، 34 فیصلوں پر عملدرآمد جاری ہے جبکہ  35 فیصلے مختلف وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہیں جو کہ 27 وزارتوں سے متعلق ہیں یہ مجموعی فیصلوں کا 3 فیصد بنتا ہے۔  کابینہ کو بتایا گیا کہ بیرون ملک یونیورسٹیوں میں قائم پانچ مختلف چیئرز پر پاکستان کے ممتاز پروفیسرز کو تعینات کرنے کا عمل جاری ہے تاکہ تعلیم کے شعبے میں ان مقاصد کا حصول ممکن بنایا جا سکے جن کے لئے ان چیئرز کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ۔

وزارتِ اطلاعات نے بتایا کہ میڈیا یونیورسٹی بنانے پر کام جاری ہے، فیزیبلٹی اسٹڈی کے لئے قواعد و ضوابط مرتب کر لئے گئے ہیں۔ اجلاس میں کابینہ کو پاکستان سٹیزن پورٹل کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ شکایات کے ازالے کے حوالے سے  پاکستان سٹیزن پورٹل ملک کا سب سے معروف پلیٹ فارم  بن چکا ہے۔ اس نظام سے سات ہزار سے زائد سرکاری دفاتر منسلک ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ گذشتہ دنوں میں دبئی میں 4646 موبائل ایپیلی کیشنز میں سے پاکستان سٹیزن پورٹل کو چنا گیا اور فروری 2019 میں اسے عالمی سطح پر دوسری موثر ترین ایپلی کیشن ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پاکستان سٹیزن پورٹل پر اب تک 1.173 ملین شہری رجسٹرڈ ہیں۔ پاکستان سٹیزن پورٹل پر اب تک 1.23ملین شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 1057334شکایات کا ازالہ کیا جا چکا ہے جو کہ 86 فیصد بنتا ہے۔ ان میں وفاق کی سطح پر 92 فیصد کا ازالہ کیا گیا، پنجاب میں 88 فیصد کا ازالہ کیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں 87فیصد، بلوچستان میں 79فیصد جبکہ سندھ میں ازالے کی یہ شرح محض 40 فیصد رہی۔ پاکستان سٹیزن پورٹل پر موصول ہونے والی شکایات میں سے التوا کا شکار ہونے والی شکایات کا بتاتے ہوئے کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبہ سندھ میں اس وقت 31 ہزار سے زائد شکایات التوا کا شکار ہیں جو کہ کل زیرِ التوا شکایات کا 84 فیصد بنتا ہے۔ پنجاب میں یہ شرح 5.05فیصد، خیبر پختونخواہ میں 4.16فیصدجبکہ  بلوچستان میں  یہ شرح0.48فیصد  رہی ہے۔

 کابینہ کو بتایا گیا کہ پاکستان سٹیزن پورٹل پر موصول ہونے والی شہریوں کی شکایات کی روشنی میں کئی پالیسی اقدامات لیے گئے ہیں۔ ان میں فنگر پرنٹس مٹ جانے والے افراد کی نادرا میں سہولت کاری، بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کے لئے ودہولڈنگ ٹیکس میں چھوٹ،  29000 انٹرن کو 941 ملین روپے کے وظیفوں کی ادائیگیاں  (یہ ادائیگیاں گذشتہ حکومت کی ذمہ داری تھی اور اس ضمن میں 282  شکایات موصول ہوئیں )، خواتین اور مخصوص افراد کی سہولت کاری کے ضمن میں پالیسی اقدامات وغیرہ شامل ہیں۔ کابینہ کوبتایا گیا کہ پاکستان سٹیزن پورٹل پر شکایات کی روشنی میں ڈائریکٹر جنرل، ایس پیز، ڈی سیز اور دیگر سینئر افسران کے خلاف ایکشن لیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ آئندہ دو ہفتوں میں ” میرا بچہ الرٹ” شروع  کیا جا رہا ہے تاکہ گمشدہ بچوں کو ڈھونڈنے اور ان کو انکے والدین سے ملانے میں مدد مل سکے جن افراد کے پاس اینڈرائیڈ فون نہیں ہیں ان کی انٹرنیٹ تک رسائی کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں، سرکاری محکموں کے مابین تنازعات کو ختم کرنے کے لئے کام جاری ہے، شفافیت کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے اوپن گورنمنٹ پورٹل سٹریٹیجی ڈاکومنٹ کی تکمیل کا کام آئندہ ڈیڑھ ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔ پاکستان سٹیزن پورٹل کے نظام کو ادارہ جاتی بنایا جا رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو پاکستان سٹیزن پورٹل کے بارے میں آگاہی فراہم ہو اور وہ اس نظام سے مستفید ہوسکیں۔

معاون خصوصی برائے صحت نے کابینہ کو ڈینگی کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ کابینہ نے ڈینگی کا مرض پھیلنے  پر اظہار تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ڈینگی پر کنٹرول کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں ڈینگی سے بچائو کے لئے بروقت اقدامات کیے جائیں۔  کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے 18-09-2019کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ ان  فیصلوںمیں پرائم منسٹر یوتھ بزنس لون سکیم کے ضمن میں سبسڈی کی ادائیگی، ملک میں گندم کی دستیابی کی صورتحال اور پلاننگ، ڈویلپمنٹ اور ریفارمز ڈویژن کے لئے سپلیمنٹری گرانٹ کی فراہمی شامل ہے۔

  کابینہ نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت کی جانب سے آٹے کی قیمت نہ بڑھانے کی باوجود بھی مصنوعی طور پر آٹے کی قیمت میں اضافے کی شکایت ملی ہے۔ ان وجوہات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ملک میں آٹے کی قیمت کسی صورت نہ بڑھے اور اس سلسلے میں صوبوں کی مشاورت سے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں کے حوالے سے رپورٹ ہفتہ وار بنیادوں پر پیش کی جائے ۔

وی این ایس ، اسلام آباد