اسلام آباد،06 دسمبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جگر کے مرض کی بروقت تشخیص پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مساجد اور میڈیا کے ذریعے اس بیماری سے متعلق آگاہی پیدا کی جا سکتی ہے، سرنجوں کا دوبارہ استعمال کرنے کی بجائے انہیں تلف کر دینا چاہئے۔
جمعہ کو جگر کی بیماری سے متعلق تیسری ایشیائ۔بحرالکاہل ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے دنیا بھر کو ہیپاٹائٹس سے پاک کرنے کیلئے 2030ءتک عرصہ کا تعین کیا گیا ہے، اس کانفرنس کے ذریعے ہمیں اس ہدف کے حصول کیلئے بیرون ملک سے آئے وفود کے خیالات اور تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آبادی کا 8 سے 10 فیصد حصہ ہیپاٹائٹس سمیت جگر کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہے، افسوسناک بات ہے کہ اکثریت مرض سے لاعلم رہتی ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتی۔
صدر مملکت نے کہا کہ لوگوں کو ہیپاٹائٹس کے مرض کی بروقت تشخیص نہیں ہو پاتی اور وہ علاج معالجہ پر توجہ نہیں دیتے اور جب انہیں پتہ چلتا ہے تو بیماری بہت زیادہ پھیل چکی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجکشن کے بار بار استعمال سے بھی مختلف امراض پیدا ہوتے ہیں، سرنجوں کا دوبارہ استعمال جرم ہے، چند سال قبل سے ڈسپوزیبل سوئیوں کا استعمال شروع ہے، ان سوئیوں اور سرنجوں کو استعمال کے فوری بعد تلف کر دینا چاہئے، منشیات کے عادی افراد بھی انجکشن لگاتے ہیں اور ان کی سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے بھی بیماریاں پھیلتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی کیلئے قومی ایمرجنسی کی ضرورت ہے جس کے حوالہ سے حکومت کام کر رہی ہے، مختلف سطح پر روابط کو فروغ دے کر ان بیماریوں کے پھیلاﺅ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آگاہی کے ذریعے پروینشن کی ضرورت ہے، احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں 35 سے 40 فیصد بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ ان کی اہلیہ نے کچھ عرصہ قبل بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی مہم چلائی جسے بھرپور پذیرائی ملی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور مساجد بیماریوں سمیت سماجی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور عوام سطح پر شعور اجاگر کرنے کا بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہیپاٹائٹس پر قابو پانے کیلئے مصر کے تجربات سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر ایشیائ۔بحرالکاہل ایسوسی ایشن کے چیئرمین پروفیسر مسعود صدیق، چائنیز سوسائٹی آف ہپٹالوجی کے صدر نے بھی خطاب کیا۔
سورس: وی این ایس، اسلام آباد